منگل, اپریل 14, 2026
اشتہار

کارل مارکس: محنت کشوں کو راستہ دکھانے والا فلسفی

اشتہار

حیرت انگیز

گزشتہ صدی میں جرمن فلسفی اور دانش ور کارل مارکس کے افکار و نظریات نے جس طرح‌ دنیا کی عالم فاضل شخصیات، قابل ترین لوگوں کو متاثر کیا اور عام آدمی کو اپنی جانب متوجہ کرلیا، اس کی مثال کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ مارکس ابتدا ہی سے بامقصد زندگی گزارنے کا قائل رہا اور انسانیت کی بے لوث خدمت اس کا وظیفہ تھا جس کے لیے مارکس نے عملی جدوجہد کی۔

کارل مارکس کے نظریہ اور اس کے فلسفہ نے دنیا کے نظام اور محنت کشوں‌ کے حالات بدلنے میں اہم کردار ادا کیا اس کی فکر نے کئی انجمنوں‌ اور بہت سی تنظیموں کو وجود بخشا اور ان کے پلیٹ فارم سے دنیا نے کئی تحریکوں‌ کا آغاز ہوتے دیکھا۔ ’داس کیپیٹل‘ مارکس کی مشہورِ زمانہ تصنیف ہے جس کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ آج بھی مارکس کی شہرت برقرار ہے اور اس کی فکر کو اب بھی محنت کشوں‌ کی راہ نما کہا جاتا ہے۔

کارل مارکس 5 مئی 1818ء کو پروشیا (موجودہ جرمنی) کے صوبہ رھائن کے شہر ٹرئیر (Trier) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ایک یہودی وکیل تھے لیکن 1824ء میں انھوں نے مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ کو قبول کرلیا تھا۔ مارکس ایک خوش حال اور مہذب گھرانے کا فرد تھا۔ وہ ایک ترقی یافتہ صوبے کا رہائشی تھا اور مارکس کے اوائلِ عمری میں وہاں ایک نیا طبقہ یعنی پرولتاریہ بھی جنم لے رہا تھا۔

مارکس نے 1830ء سے 1835ء تک اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ پھر بون اور پھر برلن یونیورسٹیوں میں قانون پڑھا۔ ساتھ ہی فلسفہ اور تاریخ میں بھی گہری دل چسپی لی۔ 1841ء میں یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی اور ایپیکیورس (Epicurus) کے فلسفے پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھا۔ کارل مارکس 1842ء میں کولون شہر چلا گیا اور وہاں‌ بطور صحافی کیریئر کا آغاز کیا۔ ایک سال بعد ہی اس کی ذہانت اور قابلیت نے اسے اخبار کا مدیر بنوا دیا۔ نوجوان کارل مارکس نے اس دور میں آزادیٔ صحافت کے لیے اپنی آواز بلند کی اور ظلم اور جبر کے خلاف قلم اٹھالیا۔ اس نے بادشاہی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کچھ ہی مہینوں بعد روس کے حاکم (زار) کے خلاف ایک مضمون چھاپنے کے جرم میں اس کے اخبار پر پابندی عائد کر دی گئی۔مارکس نے اپنا راستہ نہیں بدلا بلکہ خود کو فلسفی کے طور پر متعارف کرایا اور علمی طور وہ کچھ کردکھایا جس نے حکومت اور امراء کو اس کے خلاف کردیا اور سرمایہ دار طبقہ اس کا دشمن بن گیا مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام پر چوٹ کی اور اس کو محنت کشوں کا استحصال بتایا۔ اس کے مضامین میں‌ اس نظام سے متعلق جو پیش گوئیاں کی گئیں وہ بھی سچ ثابت ہوئیں اور واقعات کی کسوٹی پر پورا اتریں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی کمزوری اور اس کے برے نتائج تو 2007ء میں بھی دیکھے گئے جب پوری دنیا کو مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت مغرب میں پھر مارکس کے نظریات گویا زندہ ہوگئے تھے۔ مارکس نے نہ صرف گلوبلائزیشن کے امکانات کو سرمایہ دارانہ نظام کا نتیجہ قرار دیا تھا بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے ان اندرونی تضادات کا ذکر بھی کیا تھا، جو تواتر سے آنے والے بحرانوں کا سبب بن سکتے تھے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں مارکس نے معاشی، معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں پر مبنی ایک نظریاتی تھیوری پیش کی تھی جو مارکسزم مشہور ہے۔ کئی ممالک میں اسی نظریاتی تھیوری کے مطابق حکومت اور نظام نافذ ہوا۔ یہ فلسفہ معاشرے کے طبقات کے درمیان ایک چپقلش اور لڑائی کی بات کرتا ہے اور محرومیاں واضح کرتا ہے اور اشتراکیت اور سوشل ازم کو سرمایہ دارانہ نظام پر فوقیت دیتا ہے۔ کارل مارکس کا فلسفہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ امتیازی اور سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے کئی معاشرتی اور معاشی ناانصافیاں جنم لیتی ہیں۔ دراصل مارکس نے دنیا کو سوشلسٹ انقلاب سے ہمکنار کیا جس میں وقت کے ساتھ اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ کارل مارکس کے فلسفے پر تنقید اور اسے ناقص بھی کہا گیا ہے۔

کارل مارکس کو اس کے نظریات اور صحافتی دور کے مضامین کی وجہ سے جبر اور مشکلات کا سامنا یوں کرنا پڑا کہ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک مارا مارا پھرا، مگر ایک دوست کی مدد سے لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری رکھنے میں کام یاب رہا۔ اس نے شادی کرلی تھی لیکن اس جوڑے نے زیادہ تر وقت کس مپرسی میں گزارا۔ مارکس کے روزگار کا کوئی مستقل وسیلہ کبھی نہیں رہا۔ اس کی اولاد میں سے چار بچے نوعمری میں ہی چل بسے اور تین بیٹیاں ہی بڑی عمر تک پہنچیں۔ ان میں سے بھی دو نے بعد میں خود کشی کرلی۔ مارکس کی زندگی میں اس کی کتابوں کو بہت زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی مگر بعد از مرگ اس کی عظمت کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ روس میں لینن اور اس کے ساتھیوں نے مارکس کے فلسفے کے مطابق حکومت قائم کی جو محنت کشوں کی پہلی حکومت تھی۔ روس میں زار کو بدترین شکست ہوئی تھی۔ اپنے ہجرتی سفر میں فرانس، لندن کے علاوہ کارل مارکس جب بیلجئم میں قیام پذیر تھا تو اینگلز کے ساتھ مل کر کتابیں لکھنے میں مصروف رہا۔ اس کے علاوہ اس نے یورپ کے محنت کشوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی ایک تنظیم قائم کی اور لندن میں بھی رہا تو وہاں‌ بھی اس کی یہی مصروفیات رہیں۔ 1848ء میں اس کا تحریر کردہ مشہورِ‌ زمانہ کتابچہ شایع ہوا تھا جس نے دنیا بھر کے محنت کشوں کو اکٹھے ہو کر جدوجہد کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کتابچے کا نام "Communist Manifesto” تھا۔

کارل مارکس 14 مارچ 1883ء کو لندن میں چل بسا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں