The news is by your side.

Advertisement

حجاب پرپابندی: امریکا بھی میدان میں آگیا، اہم بیان جاری کردیا

واشنگٹن: بھارت میں حجاب پر پابندی کیخلاف دنیا میں بھی آوازیں اٹھنے لگیں، امریکی ادارے نےحجاب پر پابندی کو مذہبی آزادی کیخلاف ورزی قرار دے دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مذہبی آزادی پر نظر رکھنے اور رپورٹ کرنے والے امریکی حکومت کے ادارہ برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (آئی آر ایف) نے مسلم طالبات کے حجاب پہننے کے مطالبہ کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ کے درمیان کرناٹک حکومت پر تنقید کی ہے۔

آئی آر ایف کے سفیر راشد حسین نے کرناٹک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ کرناٹک کے حکام کو مذہبی لباس کی اجازت کا تعین نہیں کرنا چاہیے، اسکولوں میں حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

راشد حسین نے کہا کہ مذہبی آزادی میں کسی کو بھی مذہبی لباس انتخاب کرنے کا اختیار شامل ہے، ہندوستانی ریاست کرناٹک میں مذہبی لباس پہننے کی اجازت کا تعین نہیں کرنا چاہئے، اسکولوں میں حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرتی ہے اور یہ خواتین اور لڑکیوں کو حاشیہ پر لانے کا کام کرتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے بھی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی سے متعلق درخواست پر فوری سماعت سے انکار کردیا ہے، سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں کہ کرناٹک میں کیا ہورہا ہے؟ لیکن اسے قومی سطح کا مسئلہ نہ بنائیں، مناسب وقت پر مداخلت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: حجاب کیلیے آواز اٹھاتی رہوں گی، مُسکان کی اے آر وائی نیوز سے گفتگو

آٹھ فروری کو دنیا میں تاریخ رقم ہوئی جب کرناٹک کے ایک کالج میں زعفرانی اسکارف پہنے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں کے ایک بڑے گروپ کے سامنے کھڑے حجاب والی بہادر طالبہ مسکان خان نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔

بہادر طالبہ مسکان خان نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ جب میں کالج میں داخل ہوئی تو وہ مجھے صرف اس لیے اجازت نہیں دے رہے تھے کہ میں برقعہ پہنا ہوا تھا، انہوں نے جے شری رام کا نعرہ لگانا شروع کیا تو جواب میں میں نے بھی اللّہ اکبر کا نعرہ لگایا۔

مسکان کا کہنا تھا کہ اس گروپ کے تقریباً 10 فیصد مرد کالج کے طالب علم تھے جبکہ باقی لوگ باہر کے تھے،میں کلاس میں صرف حجاب پہنتی تھی جبکہ برقع اتار دیتی تھی کیونکہ حجاب ہمارے دین کا ایک حصہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں