The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اور بھارت نے راہداری معاہدے پر دستخط کردیے

اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپورراہداری کھولنے کے معاہدے پر دستخط ہوں گے، کرتارپور راہداری کھلنے کے بعد بھارتی یاتری بغیر ویزا دربارصاحب کرتارپور آسکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی طرف سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے دستخط کیے، بھارت کی طرف سے امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری ایس سی ایل داس نے دستخط کیے، کرتارپور راہداری معاہدہ وزیراعظم کے سکھ برادری سے وعدے کے تحت کیا گیا۔

پاکستان کی طرف سے دفترخارجہ کے ڈی جی جنوبی ایشیا ڈاکٹر فیصل فوکل پرسن تھے جبکہ بھارت کی جانب سے فوکل پرسن وہاں کے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ تھے، معاہدے کے تحت روز5 ہزار  سکھ یاتری بغیرویزا کرتار پور آسکیں گے، سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورت حال میں سہولت میسر نہیں ہوگی۔

ذرائع کے مطابق کرتارپور راہداری کھلنے کے بعد بھارتی یاتری بغیر ویزا دربارصاحب کرتارپور آسکیں گے، بھارتی یاتریوں کو پاسپورٹ، آدھار کارڈ یا پین کارڈ بطور شناخت دکھانا ہوگا۔

پاکستان امیگریشن حکام ہر بھارتی یاتری کو ایک بار کوڈوالا کارڈ جاری کریں گے، بھارتی یاتریوں کی آمد صبح 8سے دن 12بجے تک ہوگی اور غروب آفتاب تک سب یاتریوں کو واپس جانا ہوگا۔

پاکستان کرتارپورکوریڈورکے تمام انتظامات مکمل کرچکا ہے، ڈاکٹر فیصل

خیال رہے کہ گذشتہ روز ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کرتارپور کوریڈور کے تمام انتظامات مکمل کرچکا ہے، کوشش ہے کرتارپور راہداری معاہدے پر کل دستخط ہوجائیں، سفارتکاروں کے دورہ ایل اوسی سے صورتحال دنیا کے سامنے آگئی ہے۔

کرتارپور راہداری کے حوالے سے ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہر سکھ یاتری 20ڈالرفیس کے طور پر ادا کرے گا، کوشش ہے کرتارپورراہداری کھولنے کے معاہدے پر آج دستخط ہوجائیں، کرتار پور کاریڈور سے متعلق انتظامات مکمل ہیں، دستخط کے ساتھ ہی معاہدہ بھی سب کے سامنے لایا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں