site
stats
کتب

کاش ہم چکورنہ ہوتے

Kash Ham chakor na hotey
لاحاصل محبت کی دلربا داستاں

اردو ادب میں رومانیت کو انتہائی اہم مقام حاصل ہے‘ غزل گوئی ہو یا افسانہ نگاری- کوئی بھی تخلیق کارخود کو رومانیت سے د ور نہیں کرپاتا۔ زیر نظر ناول ’’ کاش ہم چکور نہ ہوتے‘‘ بھی ایک ایسی ہی کاوش ہے۔

ناول نگاری کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے اور ہر نثر نگار کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کم از کم ایک ایسا ناول ضرور تحریر کرے جو اسلوب کی صورت اختیار کرلے‘ اسی خواہش نے اردو کو کئی بڑے ناول نگار دیے ہیں۔

زیر نظر ناول ’’کاش ہم چکور نہ ہوتے ‘‘ مصور لاشاری نامی نوجوان ادیب کی ذہنی قلابازیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ان کا پہلا ناول ہے جو کہ انتہائی منفرد عنوان رکھتا ہے اور نام کی مناسبت سے اس ناول رومانیت پر مبنی ایک کہانی کو ایک
نئے انداز میں برتنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ ناول ’’کاش ہم چکور نہ ہوتے‘‘ لاڑکانہ کے کنول پبلیکشن نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت 250 روپیہ ہے۔ طباعت میں دیدہ زیب مجلد سرورق اور نسبتاً بہتر کاغذ استعمال کیا گیا ہے۔ ناول میں کتابت کی غلطیاں قابل ِ برداشت سے زیادہ ہیں اور کہیں کہیں قاری کو زچ کردیتی ہیں۔ آئندہ ایڈیشن میں اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

کاش ہم چکور نہ ہوتے – ناول کے بارے میں


یہ ایک رومانی ناول ہے جس میں عشقِ لاحاصل کو موضوع بنایا گیا ہے اور اسی نسبت سے اس کا عنوان چکور کے حوالے سے رکھا گیا ہے۔ایشیائی علاقوں میں پایا جانے والا یہ پرندہ پاکستان کا قومی پرندہ اور مشرقی لاحاصل محبت کی
علامت ہے۔

کہا جاتاہے کہ چکور چاند سے محبت کرتا ہے اور اس کی جانب اڑ کر اسے حاصل کرنا چاہتا ہے‘ چکور خود بھی یہ جانتا ہے کہ اس کی خواہش عبث اور اس کی کوشش لاحاصل ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی کوشش جاری رکھتا ہے اوراسی جدوجہد میں کبھی کبھار اپنی جان بھی گنوا بیٹھتا ہے۔

ناول کی کہانی ایک نوجوان طالب علم کے گرد گھومتی ہے‘ جو اپنی بہت سے تشنہ خواہشات کے ساتھ جوانی کے دہلیز پر قدم رکھتا ہے اور کالج میں کسی چکور کی طرح چاند کو دل دے بیٹھتا ہے۔ اور یہی سے اس لاحاصل محبت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا انجام آپ کو حیرت میں ڈال دے گا۔

روایتی عشق ومحبت کی داستانوں کی طرح یہ داستان بھی اپنے زمانے کی عکاسی کررہی ہے ‘ اپنے زمانے لوگوں کے رویے ‘ ان کی ترجیحات ‘ سماج اور اس کے مسائل کو سامنے لا رہی ہے۔

کہانی میں دلچسپی کا عنصر یہ ہے کہ جہاں ایک جانب مرکزی کردار کی کہانی آگے بڑھ رہی ہے وہی ساتھ ہی ساتھ چکور کی داستاں بھی اس کے ہم قدم ہے ‘ لیکن کیا انسان اور چکور ایک سی قسمت لے کر محبت کرتے ہیں ‘ اس کا جواب آپ کو ناول کے اختتام سے قبل نہیں ملے گا۔

جیسے جیسے ناول آگے بڑھتا جاتا ہے ‘ کرداروں کی بنت واضح ہوتی جاتی ہے اور قاری کو لگتا ہے کہ وہ سمجھ رہا ہے کہ یہ ناول کہاں جارہا ہے لیکن اختتام پر سب کچھ تبدیل ہوچکا ہے ‘ جس سے پڑھنے والے کے ذہن کو ایک یقینی جھٹکا لگتا ہے۔

اپنے آغاز سے درمیان تک ناول کا بہاؤ انتہائی مناسب ہےلیکن اختتام تک جاتے جاتے کچھ غلط ہوجاتا ہے۔۔ شاید مصنف نے اس ناول کو کم وقت یا صفحات کی زیادتی کے خوف سے عجلت میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے اور یہی وہ اپنے کردواروں کے ساتھ زیادتی کر گئے‘ اگر کچھ غیر ضروری تفصیلات حذف کرکے اختتامی لمحات کو بھرپور اندا ز میں بیان کیاجاتا تو یقیناً یہ ایک شاندار اور مکمل ناول قرار پاتا۔

ناول میں سائیکولوجی جو کہ ایک اہم مضمون ہے اسے کہانی کی بنت کے لیے احسن طریقے سے استعمال کیا گیا ہے ۔اسی طرح ہم نے اے آروائی نیوز پر قسط وار شائع ہونےو الے ناول ’ دوام ‘ میں ماحولیاتی سائنس کو ناول کی بنت کرتے دیکھا ہے۔ دوام صادقہ خان کے زورِ قلم کانتیجہ ہے۔

مصنف کےبارے میں


اس ناول کے مصنف مصور لاشاری ہیں جو کہ لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں ‘ انہوں اپنی ابتدائی تعلیم لاڑکانہ کیڈٹ کالج سے حاصل کی اور اب کراچی کی ایک نجی یونی ورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔

مصنف اپنی کتاب کےبارے میں پیش لفظ میں رقم طراز ہیں کہ ’’ میں نے آپ سب کے لیے یہ کہانی لکھی یہ وہ کہانی ہے جو کہیں نہ کہیں ہم سب کی ہے۔ ہم سب اپنی اپنی محبتیں گنوا بیٹھے ہیں اور کیوں گنوا بیٹھے ہیں اس کا جواب آپ کو ناول پڑھنے کے بعد ہی ملے گا‘‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top