The news is by your side.

Advertisement

سپرنٹنڈنٹ کاشانہ لاہورافشاں لطیف زیر حراست

لاہور: سپرنٹنڈنٹ کاشانہ لاہور افشاں لطیف کو حراست میں لے لیا گیا، افشاں لطیف کو سرکاری رہائش گاہ پر قبضے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپرنٹنڈنت کاشانہ لاہور افشاں لطیف کو سرکاری رہائش گاہ پر قبضے کے الزام حراست میں لے لیا گیا، افشاں لطیف نے اپنے ہی ادارے کی ڈی جی کرن امتیاز پر الزامات لگائے تھے۔

افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ کرن امتیاز کم عمر لڑکیوں پر شادی کے لیے دباؤ ڈالتی تھیں۔

ذرائع کے مطابق خاتون افسر کے ساتھ شوہر کو بھی حراست میں لے کر رہائشگاہ خالی کرالی گئی ہے، خاتون افسر پر تبادلے کے باوجود رہائش گاہ خالی نہ کرنے کا الزام تھا۔

افشاں لطیف کا گرفتاری سے پہلے ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ادارے کی بچیاں میری بیٹیوں کی طرح ہیں، کاشانہ لاہور میں بچوں کی عزت پر آنچ نہیں آنے دوں گی، ویڈیو میں انکشافات کیے ہیں وزیراعلیٰ پنجاب تحقیقات کریں۔

افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ مجھے ہٹانے کا مطلب شواہد کو غائب کرنا ہے، جن رازوں سے پردہ اٹھایا انہیں سامنے لانا ضروری ہے، رازوں کے اصل حقائق سامنے لائے بغیر نہیں جاؤں گی۔

دوسری جانب معائنہ ٹیم نے افشاں لطیف کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات میں ان کا اپنا کردار مشکوک نکلا ہے، تبادلے سے بچنے کے لیے افشاں لطیف نے الزامات عائد کیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کاشانہ لاہور کی وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری سوشل ویلفیئر پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے معاملے کی ہرپہلو سے انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ الزامات کی چھان بین کرکے حقائق سامنے لائے جائیں، تحقیقات میں جو بھی قصور وار ہوا بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں