The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا کا دہرا معیار، کشمیر کمیٹی کا ٹویٹر کے نمائندے جارج سلامہ کو پاکستان بلانے کا فیصلہ

اسلام آباد: سوشل میڈیا کے دہرے معیار پر پارلیمانی کشمیر کمیٹی نے ٹویٹر کے نمائندے جارج سلامہ کو پاکستان بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد میں ٹویٹر کے نمائندے جارج سلامہ نے پارلیمانی کشمیر کمیٹی کو بریفنگ دی، انھوں نے کہا ٹویٹر اوپن پبلک پلیٹ فارم ہے، جس پر کسی قسم کے تشدد کے فروغ کی اجازت نہیں، نفرت انگیز مواد پر اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔

چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ عالمی مسائل پر سوشل میڈیا کا معیار دہرا ہے، ٹویٹر کشمیریوں کو اظہار رائے کے یکساں مواقع فراہم نہیں کر رہا۔ دریں اثنا، اجلاس میں کشمیر کمیٹی نے نمائندہ ٹویٹر جارج سلامہ کو پاکستان بلانے کا فیصلہ کیا، شہریار آفریدی نے کہا کہ جارج سلامہ کو کشمیر کمیٹی میں شرکت کی دعوت دیں گے۔

قبل ازیں، شہریار آفریدی کی زیر صدارت پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیئرمین نے استفسار کیا کہ ڈیجیٹل سطح پر پی ٹی اے کی رسائی کیا ہے، چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں فیس بک اور ٹویٹر کا دفتر اور نمائندہ نہیں ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیریوں کو حق خود مختاری دینے کی بات کی ہے، وزیر اعظم کہتے ہیں کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، اس لیے یہ کشمیر کمیٹی وزیر خارجہ کو بلا کر وزیر اعظم کے بیان پر وضاحت لے۔ فروغ نسیم نے اس پر کہا کہ وزیر اعظم کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے، وزیر اعظم نے کشمیر کے مستقبل پر بات یو این قرارداد کے مطابق کی۔

بعد ازاں، چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے میڈیا سےگفتگو میں کہا کہ عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی، مقبوضہ کشمیر میں ڈیموگرافک اور ثقافتی دہشت گردی جاری ہے، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے کشمیر کمیٹی کو متحرک کریں گے۔

انھوں نے کہا ماضی میں فیس بک اور ٹوئٹر کو کشمیر کے بارے میں انگیج نہیں کیا گیا تھا، سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی آواز کو دبایا جاتا ہے، نوجوان نسل سوشل میڈیا پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں