The news is by your side.

Advertisement

کشمیر میں کرفیو اورلاک ڈاؤن کو 199 روز ہوگئے، متعدد نوجوان گرفتار

سری نگر : بھارتی فورسز نے مقبوضہ وادی کو 199روز سے دنیا کی سب سے بڑی چھاؤنی بنا رکھا ہے، نہتے کشمیری نوجوانوں کی جبری گرفتاریاں اوران پر بہیمانہ تشدد کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن اور کرفیو کو 199 دن ہوگئے ہیں، انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش نے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ دنیا سے منقطع کیا ہوا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے گھرگھر تلاشی لے کر متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرلیا، لوگوں کو بیمار حریت رہنما علی گیلانی سے ملاقات سے روک دیا گیا، علی گیلانی کے گھر پر اضافی فورسز اہلکار تعینات کردئیے گئے، علی گیلانی طویل عرصے سے گھر میں نظربند ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک مقامی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔

وادی میں کشمیری گھروں میں قید ہیں، اسکول، کالجز اور تجارتی مراکز بند ہیں اس کے علاوہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ شدید سردی نے کشمیریوں کی زندگی مزید مشکل بنادی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی مظالم کیخلاف کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بھارتی مظالم کیخلاف ضلع پلواما، شوپیاں، کلگام ، بڈگام سمیت دیگر علاقوں میں کشمیریوں نے احتجا ج کیا۔

بھارت کی ریاستی دہشت گردی نے کشمیریوں سے آزادی مانگنے کے جرم میں روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتیں چھین لیں۔

بھارتی ظلم کے آگے سینہ سپر کشمیری نوجوان مسلسل جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ دوسری جانب کشمیریوں پر زندگی مزید تنگ کرنے کیلئے بھارتی حکومت وادی میں ساڑھے پانچ سو روبوٹس تعینات کرے گی۔

علاوہ ازیں چیئرمین کشمیر کونسل ای ایو علی رضاسید نے برسلز سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہدائے کشمیر افضل گرو اور مقبول بٹ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، شہداء نے اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر کی آبیاری کی، بھارتی حکومت دونوں شہدا کے اجساد کو ورثا کے حوالے کرے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کروائے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں