The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں‌ تعینات بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں میں ہوشربا اضافہ

سری نگر: مقبوضہ جموں کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ مطابق اکتوبر 2020 میں مقبوضہ وادی میں تعینات 7 اہلکاروں نے اپنی بندوق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر کو جموں کشمیر کے مضافاتی علاقے گجن سون میں ریاست مدھیا پردیش سے تعلق رکھنے والے فوجی افسر چکر پانی پرسادتیواری نے سرکاری رائفل سے خود کو گولی ماہر کر اپنی جان کا خاتمہ کیا۔

اسی طرح 2 اکتوبر کو شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے گوہلان اوڑی میں جکلے رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے رکھشت کمار نامی فوجی نے سرکاری بندوق سے فائر کر کے اپنی زندگی ختم کی۔ اہلکار کی عمر بائیس سال تھی۔

6 اکتوبر کو وسطی ضلع گاندربل کے چھتر گل کنگن میں تعینات جگمیت سنگھ نامی اہلکار نے خودکشی کی جبکہ گیارہ اکتوبر کو ضلع کپواڑہ کے سرحدی علاقے نوگام سیکٹر میں تعینات ملائی راج نامی اہلکار نے خودکشی کی۔

خود کشی کا ایک اور واقعے میں 12اکتوبر 2020کو شمالی ضلع کپواڑہ کے ہندوارہ میں تعینات سشسترا سیما بل کے ایک جوان نے مبینہ طور پر اپنے آپ پر گولی چلا کر خود کشی کر لی ہے۔مبینہ خود کشی کا یہ واقعہ ولگام ہندوارہ میں واقع ایس ایس بی کیمپ میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو پیش آیا تھا۔

علاوہ ازیں 15 اکتوبر کو سری نگر میں تعینات اہلکار نے خودکشی کی جبکہ 12 اکتوبر کو سرکاری رائفل سے خود کو گولی مارنے والا بھارتی فوجی 14 روز زیرعلاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔

کشمیر کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق سیکیورٹی فورسز میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان سخت ڈیوٹی، عزیز و اقارب سے دوری اور گھریلو و ذاتی پریشانیاں ہیں، اسی وجہ سے خودکشی کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق فوجیوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہوا، بڑھتے ہوئے واقعات پر مودی سرکار بھی سخت پریشان ہے کیونکہ اس سے دیگر اہلکاروں کے حوصلے پست ہورہے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوری 2007سے 28 ستمبر2019 تک مقبوضہ کشمیر میں خود کشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد 433 تک پہنچ گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں