site
stats
عالمی خبریں

کشمیرمیں مظالم : بھارتی طالبہ مودی سرکار پر برس پڑی

نئی دہلی : بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر مظالم کے خلاف جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طالبہ بھارتی حکومت پر برس پڑی، خاتون اسٹوڈنٹس لیڈر شہلا راشد نے کہا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر سب بولتے ہیں اگر کشمیری اپنے حقوق کی بات کریں تو غدار کا خطاب ملتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں، دہلی کی جواہر لال یونیور سٹی کی اسٹوڈنٹس لیڈر نے اپنے خطاب میں بھارتی حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔

جواہر لال یونورسٹی کی طالبہ شہلا راشد کی سوشل میڈیا پر جاری تقریر کی ویڈیو نے بھارت میں تہلکہ مچا دیا، کچھ دن پہلے کی گئی تقریر سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔

اسٹوڈنٹس لیڈر شہلا راشد کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اندریش کمار سمجھوتہ ایکسپریس سانحے میں ملوث ہے، انہوں نے مودی سرکار کو للکارتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نہ آپ کی بندوق سے ڈرتے ہیں نہ آپ کی جیل سے ڈرتے ہیں۔

اس موقع پر موجود طلبا نے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے، انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر نریندر مودی بول سکتے ہیں، راج ناتھ سنگھ بول سکتے ہیں، سب بول سکتے ہیں لیکن کوئی کشمیری نہیں بول سکتا۔ جب کوئی کشمیری کشمیر کی بات کرے تو کہتے ہیں کہ اس کی زبان کاٹ دو اس کو جیل میں ڈال دو یا اس کو جعلی مقابلے میں میں مار دو۔

طالبہ نے کہا کہ یونیورسٹی کے سیمینار میں سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکا کرنے والے دہشت گردوں کو تو آنے کی اجازت ہے مگر کشمیریوں کو نہیں۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف یونیورسٹی کے طلبا نے احتجاجی مارچ بھی کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top