بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف بغاوت کے شواہد نہیں ملے -
The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف بغاوت کے شواہد نہیں ملے

بنگلور: بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف بنگلور میں ہونے والے ایک پروگرام کر دوران کچھ لوگوں کی طرف سے انڈیا مخالف نعروں کے سلسلے میں بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے شواہد نہیں ہیں.

تفصیلات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کشمیر میں ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے سلسلے میں انصاف حاصل کرنا‘ تھا.

دوسری جانب دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک طلبا تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ایک انڈیا مخالف پروگرام تھا اور اسی بنیاد پر اس نے ایک شکایت درج کرائی تھی.

*کشمیریوں پر ظلم و ستم، ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج

پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت تک ہونے والی تفتیش کی بنیاد پرایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف بغاوت کا کوئی کیس نہیں بنتا.ہمارے پاس الزام ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود نہیں ہیں.

*ایمنیسٹی انٹرنیشنل پر غداری کا الزام ،بھارت میں اپنے دفاتر بند کردیے

رپورٹس کے مطابق جب بنگلور میں ہونے والے پروگرام میں شریک ایک شخص نے بھارتی فوج کی تعریف کی تو وہاں موجود کچھ کشمیر طلبا نے انڈیا مخالف نعرے لگانا شروع کر دیے تھے.

پولیس کا کہنا ہے اس نے 13 اگست کو ہونے والے پروگرام کی ایڈٹ ہونے سے پہلے والی وڈیو فوٹیج کا معائنہ کیا ہے جس میں کچھ شرکا نے مبینہ طور پر نعرے لگائے.

*مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل 48 ویں روز بھی کرفیو

یاد رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ ہفتوں میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک اور پانچ ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں.

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرناایمنیسٹی انٹرنیشنل کا جرم بن گیا،غداری کے الزامات لگائے جانے کے بعد عالمی تنظیم نے بھارت میں اپنے دفاتر بند کردیےتھے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں