The news is by your side.

Advertisement

” زمین پر موجود جنت ” کشمیر” محاصرے میں ہے “

واشنگٹن : وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ زمین پر موجود جنت محاصرے میں ہے، ایک سال پہلے بھارت نے کشمیر میں محاصرہ اور مواصلات کا بلیک آؤٹ کیا۔

یہ بات انہوں نے امریکی اخبار  واشنگٹن ٹائمز میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہی، انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام60دہائیوں سے بھارتی ظلم وستم کا شکار ہیں، ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز کشمیری مظاہرین کو جعلی مقابلوں میں قتل کررہی ہے، پیلٹ گنوں کے استعمال سے کشمیری بینائی سے محروم ہورہے، 80لاکھ سے زائد کشمیری بھارت کی قید میں ہیں، مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ اکتوبر میں2امریکی سینیٹرز کو مقبوضہ کشمیر آنے سے روکا گیا، بھارت آزاد مبصر یا تنظیم کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ نہیں کرنے دیتا، بھارت کورونا کو کشمیریوں پرظلم کےطورپراستعمال کررہا ہے، کشمیریوں کی تکالیف کو دوگنا کردیا گیا ہے، غیر قانونی گرفتاریوں،معصوم کشمیریوں کے قتل میں اضافہ ہوا۔

وزیرخارجہ نے لکھا کہ دنیا انٹرنیٹ کااستعمال کرتے ہوئے کورونا وبا کا مقابلہ کررہی ہے، انٹرنیٹ بندش سے کشمیری معلومات کے بلیک ہول میں پھنس گئے، کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر دنیا کی توجہ ہے۔،

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرشدید تشویش ہے، امریکی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کشمیریوں کی مدد کا اعادہ کیا، ٹام لانٹوس کمیشن نے کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں پر سماعت کی، متعدد گواہوں نےانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوت فراہم کیے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے، بھارتی اقدامات یواین قراردادوں، جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، تمام کشمیری جماعتوں نے نئے بھارتی قواعد کو مسترد کردیا، جوہری ماحول میں غیرذمہ دارانہ بیانات کا تصور کرنا مشکل ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت پاکستان سے کشیدگی بڑھا کر کشمیرسے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، جنوبی ایشیا دنیا کے غریب ترین خطے میں سے ایک ہے، پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے بجائے غربت کا مقابلہ کرنا چاہئے، بات چیت کے ذریعے اختلافات کا حل نکالا جاسکتا ہے، پاکستان اور اقوام متحدہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں