The news is by your side.

Advertisement

سری نگر: چار ماہ بعد مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی، روح پرور مناظر

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں واقع مرکزی اور جامع مسجد میں چار ماہ بعد جمعے کی نماز باجماعت ادا کی گئی، اس موقع پر روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد جامع مسجد کو اگست کے اوائل میں بند کردیا گیا تھا اور باجماعت نماز کی ادائیگی پر پابندی تھی۔

ایک روز قبل انتظامیہ نے کشمیریوں کے جذبہ ایمانی کو دیکھتے ہوئے ہتھیار ڈالے اور انہیں جامع مسجد سری نگر میں باجماعت نماز ادائیگی کی اجازت دی۔

چار ماہ بعد مسجد کھلنے پر نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد نے باجماعت نماز ادا کی اور بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے بھی خصوصی دعا کی گئی، اس موقع پر روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے۔

مقامی افراد کے مطابق تیرہویں صدی میں تعمیر ہونے والی مسجد اس سے پہلے کبھی اتنا لمبا عرصہ تک بند نہیں رہی۔ جامع مسجد میں حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق جمعے کا خطبہ دیتے تھے البتہ انہیں پولیس نے جمعہ پڑھانے کی اجازت نہیں دی۔

بھارتی حکومت نے پانچ اگست کے بڑے قدم کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون لائنز بند کرتے ہوئے کرفیو نافذ کررکھا ہے جس میں کوئی نرمی نہیں آئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں