The news is by your side.

Advertisement

کشمیری جوڑا کرونا مریضوں اور اسپتال عملے کیلئے مسیحا بن گیا

سری نگر : کشمیری جوڑے نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر کرونا وبا سے متاثرہ شہریوں و طبی عملے میں مفت کھانے کی تقسیم سے لوگوں کے دل جیت لیے۔

بھارت میں کرونا وبا پھوٹی تو مقبوضہ کشمیر بھی کرونا وائرس کی لپیٹ میں آگیا اور یومیہ بنیادوں پر ہزاروں افراد وبا کا شکار ہونے لگے، کرونا کے ساتھ معاشی مسائل نے بھی شہریوں کو مشکلات سے دوچار کیا تو سری نگر سے تعلق رکھنے والے رئیس احمد اور ان کی اہلیہ ندا کرونا متاثرین کےلیے مسیحا بن گئے۔

رئیس احمد اور ان کی اہلیہ ندا سری نگر میں گزشتہ برس سے ایک فوڈ ڈیلیوری اسٹارٹ اپ ’ٹفن آؤ‘ یعنی ٹفن آیا چلا رہے ہیں جس کے ذریعے وہ لوگوں کو گھر کا بنا ہوا کھانا فراہم کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں حالات نے رخ بدلا اور لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تو رئیس احمد اور ان کی اہلیہ نے کرونا متاثرین اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے طبی و دیگر عملے کےلیے کھانے کی مفت فراہمی شروع کردی۔

یہ کشمیری جوڑا اپنے باورچی خانے میں خود کھانا تیار کرکے روزانہ 500 سے زائد افراد کو پہنچاتے ہیں، جس میں ان کا اسٹاف بھی مکمل ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے سروس فراہم کرتا ہے۔

رئیس احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اب اس کار خیر میں دیگر افراد بھی شامل ہوگئے ہیں لیکن وہ زیادہ تر کھانا اپنے پیسوں سے تیار کرکے اسپتالوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں‘۔

کشمیری شہری رئیس احمد کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ 50، 100 یا 200 پیکٹ کھانا کورونا مریضوں اور ان کے اہل خانہ میں تقسیم کرنے کا آرڈر دیتے ہیں اور اس کے لیے رقم بھی ادا کرتے ہیں۔ ہم ان کے آرڈر کے مطابق کھانے کے پیکٹ تیار کرکے لوگوں میں تقسیم کر دیتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک کورونا کی یہ لہر چل رہی ہے، وہ اسی طرح لوگوں میں مفت کھانا تقسیم کرتے رہیں گے کیونکہ اسی طریقے سے وہ اس وبا کے درمیان انسانیت کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں