The news is by your side.

Advertisement

بھارتی فوج خواتین کوبطورہتھیاراستعمال کررہی ہے، کشمیری صحافی

سری نگر: کشمیری صحافی نعیمہ ماہ جور کا کہنا ہے کہ کشمیری بھارتی حکومت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے، کرفیو کے باوجود کشمیری نکلتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کشمیری صحافی نعیمہ ماہ جور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت غیر یقینی کی صورت حال ہے، کشمیری گھروں میں محصور ہیں، مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے۔

نعیمہ ماجور نے کہا کہ کرفیو کے باعث اشیائے خوردونوش کی قلت پڑچکی ہے، لوگ گھروں میں محصور ہیں جس سے غصہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارتی فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے، کشیدگی بڑھتی رہی تو صورت حال یکسر مختلف ہوسکتی ہے۔

کشمیری صحافی نے کہا کہ کرفیو کے باوجود کشمیری نکلتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں، کشمیریوں کی بڑی تعداد جیلوں میں ڈال کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کررہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا مسلسل 19واں روز

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 19ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال دی گئی ہے، نماز جمعہ کے بعد سری نگر میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں