The news is by your side.

Advertisement

قصور میں لیگی رہنماؤں کی عدلیہ مخالف ریلی، تمام ملزمان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے قصور میں عدلیہ مخالف ریلی کے مقدمہ میں نامزد ایم این اے ، ایم پی اے سمیت تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ڈی پی او قصور کو ہدایت کی ہے کہ اگر معاملہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے تو ایف آئی اے کو بھجوایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بنچ نے ن لیگ کے قصورکےرہنماؤں کےخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی، عدالتی حکم پر نامزد ملزمان ایم این اے وسیم اختر، ایم پی اے نعیم صفدر، چیئرمین بلدیہ قصور ایاز خان، وائس چیئرمین احمد لطیف کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت نے عدالت کو بتایا کہ دو ملزمان جمیل خان اور ناصر احمد خان مفرور ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ مفرور ملزمان کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا، جس پر ڈی پی او قصور نے بتایا کہ مقدمے میں متعدد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

عدالت نے ایم این اے، ایم پی اے سمیت چھ ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔


مزید پڑھیں : عدلیہ مخالف ریلی، عدالت نے ن لیگی اراکین اسمبلی کو طلب کرلیا


عدالت نے ڈی پی او قصور کو ہدایت کی ہے کہ سائبر کرائم کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں، اگر معاملہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے تو ایف آئی اے کے سپرد کر دیا جائے گا۔

عدالت نے مفرور ہونے والے دونوں ملزمان جمیل خان اور ناصر احمد خان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت سات مئی تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ قصور میں مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی اور کارکنان کی جانب سے عدلیہ مخالف ریلی نکالی اور ٹائر جلائے، ریلی میں اعلیٰ عدلیہ اور ججوں کے اہل خانہ کے خلاف نازیبا زبان کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور چیف جسٹس آف پاکستان کا نام لے کر گالیاں دی گئیں۔

اس ریلی کی قیادت مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر، رکن پنجاب اسمبلی نعیم صفدر اور ناصر محمود نے کی۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد سے ن لیگ کے رہنما عدلیہ کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں