site
stats
پاکستان

قصور:مردہ جانوروں اور مرغی کی آلائشوں سے کوکنگ آئل کی تیاری

قصور: پنجاب میں مردہ جانوروں اور مرغی کی آلائشوں سے کوکنگ آئل کی تیاری کا انکشاف ہوا ہے یہ تیل پنجاب بھر میں بالخصوص لاہور اور گجرانوالہ بھیجا جاتا ہے، اے آر وائی کی ٹیم نے چھاپہ مارا تو ملزمان تیل پکتا ہوا چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی کی ٹیم ’’ذمہ دار کون ‘‘ ہے نے قصور میں بننے والے اس غلیظ کوکنگ آئل کے اڈے پر اسسٹنٹ کمشنر قصور کے ہمراہ چھاپہ مارا تو وہاں کوکنگ آئل بنایا جارہا تھا (جیسا کہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے)۔


یہ بھی پڑھیں: لاہور: مرغی کی چربی سے آئس کریم بنانے کا انکشاف، فیکٹری سیل


چھاپے سے قبل ہی مافیا کے لوگ فرار ہوگئے، ٹیم جب وہاں پہنچی تو کڑاہیوں میں آئل پک رہا تھا۔

ذمہ دار کون کے میزبان علی رضوی نے بتایا کہ رمضان میں جو افراد پکوڑے، سموسے اور دیگر تلی ہوئی اشیا کھاتے ہیں وہ جان لیں کہ ان اشیا کی تیاری میں کون سا تیل استعمال ہورہا ہے۔


علی رضوی کا کہنا تھا کہ یہ آئل کھلا فروخت ہوتا ہے یہ کن مراحل سے تیار ہو کر گزرتا ہے عوام اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
ٹیم کو وہاں جانوروں کی ہڈیاں، مرغیوں کی آلائشیں، جانوروں کی کھالیں اور دیگر اشیا ملیں، کھالوں کو علیحدہ سے فروخت کیا جاتا ہے جب کہ ہڈیاں آئل بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں مردہ مرغیوں کے گوشت کی فروخت کا انکشاف

اسسٹنٹ کمشنر امتیاز خان کھچی نے کہا کہ اے آر وائی کی جانب سے اطلاع دیے جانے کے بعد ہم نے اس جگہ کی نگرانی کرائی تو پتا چلا کہ یہ لوگ مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور انتڑیوں کو پگھلا کر آئل بناتے ہیں جس میں مرغیوں کی آلائشیں قابل ذکر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں آئل کے ساتھ ساتھ صابن بھی بنایا جارہا تھا، یہاں ایک نہیں دو سے تین فیکٹریاں ہیں۔


یہ ضرو پڑھیں: پانچ ہزار گدھے کہاں کاٹے گئے؟ گوشت کہاں گیا؟


ٹیم جب وہاں پہنچی تو انہیں سانس لینے میں بھی دشواری ہوئی، ٹیم جیسے ہی وہاں پہنچی تو اندر موجود افراد نے تالے لگالیے، اور کسی دوسرے راستے سے فرار ہوگئے۔

مزید پڑھیں : بھارت سے درآمد مرغی کی فیڈ میں سور کی چربی کا انکشاف

 ٹیم کے ساتھ پولیس بھی موجود تھی جسے دیکھ کر لوگ وہاں رکے اور بتایا کہ ہم یہاں رہتے ہیں اس جگہ سے بدبو آتی ہیں، آئل بنتا ہے۔

لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افراد کو سخت ترین سزاد دی جائے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ انہیں پکڑنا عوام کی ذمہ داری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top