خورشید قصوری کے اپنے مسئلہ کشمیرفارمولے کے حق میں دلائل -
The news is by your side.

Advertisement

خورشید قصوری کے اپنے مسئلہ کشمیرفارمولے کے حق میں دلائل

لندن: سابق وزیرخارجہ پاکستان خورشید قصوری نے اپنے دورمیں بھارت کے مسئلہ کشمیر کے حل پر راضی ہونے کے دعوے پربھرپوردلائل دیے۔

تفصیلات کے مطابق لندن میں ایک اعلیٰ سطحی ’’پبلک کنورسیشن‘‘ کا انعقاد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے خورشید قصوری نے اپنے حل میں دلائل دیے۔

خورشید قصوری کا کہنا ہےکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت نے چارنکات پراتفاق کیا تھا۔

اولاً: جموں اور کشمیر کو آزاد نہیں کیا جائے گا۔
دوئم:سرحدوں میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
سوئم: لائن آف کنٹرول کی حیثیت ثانوی رہ جائے گی۔
چہارم: کشمیر کے دونوں حصوں کے نظم ونسق کے لئے مشترکہ میکنزم تشکیل دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا اس وقت میں وزیرِ خارجہ تھا اور سابق صدرپرویز مشرف کے قریبی ساتھی طارق عزیزاوربھارتی سفارت کار ستی لمبھا کے درمیان طے پائے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’’حال ہی میں شائع ہونے والی میری کتاب ’’ نیدرہاک نارڈو‘‘ میں پاکستان اوربھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے طے پائے جانے والے فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ میں چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی میرے بیان کئے فریم ورک کی تردید کرکے دکھائے، یہی دونوں حکومتوں کے درمیان طے پایا تھا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ میری بات کے ثبوت یہ ہے کہ میری کتاب کی تقریب رونمائی میں اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ (کانگریس) اورنائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی ( بی جے پی) دونوں موجود تھے اورانہوں نے کتاب کے مندرجات پراعتراض نہیں کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے دورِ وزارت میں منموہن سنگھ پاکستان کا تاریخ ساز دورہ کرنے والے تھے تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے دباؤ پرانہوں نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں