The news is by your side.

Advertisement

کے سی آر منصوبے کے متاثرین کا سپریم کورٹ کے باہر احتجاج

تجاوزات گرانے سے بلڈرز کی حمایت میں نہیں روکا، بلڈرز کا نمائندہ نہیں ہوں: فردوس شمیم

کراچی: سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر کراچی سرکلر ریلوے کے متاثرین کی بڑی تعداد احتجاج کر رہی ہے، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں آج اہم کیسزز کی سماعت کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق کے سی آر منصوبے کے متاثرین نے منصوبے کی جگہ خالی کرانے کے خلاف بینرز اٹھا کر سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر احتجاج شروع کر دیا ہے، متاثرین نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انھیں گھر کے بدلے گھر فراہم کیا جائے، رائل پارک اپارٹمنٹس کے متاثرین کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

متاثرین رائل پارک اپارٹمنٹس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایس بی سی اے کا این او سی موجود ہے، سندھ گورنمنٹ بورڈ آف ریونیو نے 99 سال کی لیز دی ہے۔ دریں اثنا، عدالت کے باہر بلدیاتی ملازمین بھی موجود ہیں جنھوں نے عدالت سے 15 فی صد اضافی تنخواہ اور پنشن دلوانے کی استدعا کر رکھی ہے۔

خیال رہے کہ آج سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اہم کیسز یر سماعت ہو رہی ہے، عدالت نے غیر قانونی تعمیرات پر ایس بی سی اے سے رپورٹ طلب کر رکھی ہے، عدالت میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی سے متعلق پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرائی جائے گی، پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی توہین عدالت کیس میں پیش ہوں گے۔

رائل پارک اپارٹمنٹ کے خلاف آپریشن کے دوران فردوس شمیم نے مداخلت کی تھی، وزیر تعلیم سندھ سعید غنی بھی توہین عدالت کیس میں پیش ہوں گے، انھوں نے بھی تجاوزات مسمار کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف بیان دیا تھا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بینچ سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجادعلی شاہ بھی شامل ہیں۔

فردوس شمیم نقوی نے عدالت کے باہر پہنچنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بلڈرز کی حمایت میں تجاوزات کو گرانے سے نہیں روکا تھا، بلکہ یہ مؤقف ہے کہ متبادل نہ دینے تک تجاوزات نہیں گرائی جانی چاہیئں، یہ بات غلط ہے کہ میں بلڈرز کا نمائندہ ہوں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 6 ماہ میں کراچی سرکلر ریلوے چلانے کا حکم دے دیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سندھ کو نوٹس بھیجیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں