کے ڈی اے ڈائریکٹر جمیل بلوچ کا رہائی کے بعد پولیس کو بیان -
The news is by your side.

Advertisement

کے ڈی اے ڈائریکٹر جمیل بلوچ کا رہائی کے بعد پولیس کو بیان

کراچی : کے ڈی اے کے ڈائریکٹر برائے انسدادِ تجاوزات ’’جمیل بلوچ‘‘ پُراسرار گمشدگی کے بعد منظر عام پر آگئے۔

تفصیلات کے مطابق کے ڈی اے ڈائریکٹر نے پولیس کو ابتدائی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ ’’میں نماز کی ادائیگی کے لیے اپنی گاڑی مسجد کے باہر کھڑی کر کے گیا اور واپسی پر گاڑی کے قریب پہنچنے سے قبل ایک نامعلوم شخص سفید گاڑی سے اتر کر میرے پاس آیا اور مجھے مخاطب کر کے اپنے ہمراہ چلنے کا حکم دیا‘‘۔

جمیل بلوچ نے مزید بتایا کہ ’’میں نے اُس شخص سے اس کی شناخت پوچھی تو اُس نے جواباً کہا کہ ’’ ایک ادارے کے کچھ افسران آپ سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

گاڑی کے قریب پہنچتے ہی اندر بیٹھے مسلح افراد نے مجھے زبردستی پکڑ کر میرے ہاتھوں کو رسیوں سے باندھا اور میری آنکھوں پر بھی پٹیاں باندھ کر گاڑی کی پچھلی نشست پر بٹھا کر گاڑی نامعلوم مقام کی طرف چلا دی۔

کے ڈی اے ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ ’’مسلح افراد مجھے نامعلوم مقام پر لے گئے اور چار روز تک زمینوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے رہے اور کل رات 2 بجے کے قریب مجھے اسٹار گیٹ پر چھوڑ کر چلے گئے‘‘۔

واضح رہے کہ کے ڈی اے ڈائریکٹر انسدادِ تجاوزات جمیل بلوچ کو گذشتہ روز رات کی تاریکی میں نامعلوم افراد کی جانب سے اسٹار گیٹ کے قریب چھوڑ دیاگیا.

یاد رہے کہ کےڈی اے کے ڈائریکٹر انسدادِ تجاوزات جمیل بلوچ گذشتہ دنوں شام کے وقت اپنے دفتر سے گھر جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئےتھے،اُن کی گمشدگی کی رپورٹ عزیز بھٹی تھانے میں درج کرادی گئی تھی.

اس ضمن میں جمیل بلوچ کے اہل خانہ کی جانب سے سند ھ ہائی کورٹ میں گمشدگی کی درخواست دائر کی گئی تھی، دورانِ سماعت عدالت ڈائریکٹر کی گمشدگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئی جی سندھ اور متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا تھا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں