لاہور (26 جنوری 2026): حال ہی میں پنجاب میں پالتو شیروں کے شہریوں پر حملے اور کئی افراد کو زخمی کرنے کے بعد وزیراعلیٰ نے اہم فیصلہ کر لیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور سمیت پنجاب میں چار روز کے اندر پالتو شیروں کے شہریوں پر حملے کے باعث دو بچوں اور ایک وائلڈ لائف افسر زخمی ہو گیا۔ مسلسل ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نےف یہ فیصلہ ایک فارم ہاؤس میں جاری شادی کی تقریب کے دوران وہاں پلے ہوئے شیر کے حملے میں 8 سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہونے کے بعد کیا۔
مریم نواز کی ہدایت پر کمسن واجد کو گنگا رام اسپتال علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کو جدید بائیونک بازو لگانے کی ہدایت کی ہے۔ تاکہ وہ اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے حقائق چھپانے اور مقامی اسپتال میں بازو کاٹنے پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔
واضح رہے کہ یہ دردناک واقعہ تین روز قبل لاہور کے ڈھولا بریڈنگ فارم میں ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا تھا۔ تاہم بچے کو زخمی ہونے کے باوجود فارم ہاؤس مالک نے پولیس یا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو اطلاع نہیں دی۔
پرائیویٹ اسپتال میں بچے کے بازو پر زخم کی وجہ بھی غلط بتائی گئی اور فارم ہاؤس مالک نے زخمی بچے کے والدین کو جھوٹی کہانی سنانے پر مجبور کیا۔
اس واقعے کے بعد پولیس اور محکمہ جنگلی حیات نے ذمہ دار ملزمان کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کر لی ہے جب کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے آئندہ ایسے خوفناک واقعات سے بچنے کے لیے قانون سے وائلڈ کیٹس رکھنے کی شق ختم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ایک ہفتے میں پالتو شیروں کے حملے کا تیسرا واقعہ، وائلڈ لائف افسر زخمی
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


