site
stats
پاکستان

سانحہ سیہون کا کیس، گرفتار ملزم نادر کا دھماکے کی سہولت کاری کا اعتراف

کراچی : سانحہ سیہون کا کیس میں گرفتار ملزم نادر نے دھماکے کی سہولت کاری کا اعتراف کرلیا، ملزم نے حملہ آوروں کو اپنے گھر میں پناہ دی جبکہ ملزم نادر نے اعتراف کیا کہ اس کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ لعل شہباز قلندر کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آگئی، گرفتار ملزم نادر نے لعل شہباز قلندر مزار کو خون سے لال کرنے والے دھماکے میں سہولت کاری کا اعتراف کرلیا ہے۔

ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ سترہ فروری کو لعل شہباز قلندر کے مزار دھماکے کے خود کش حملہ آوروں کو اپنے گھر کندھ کوٹ میں پناہ دی تھی۔

نادر جاکھرانی کے بیان کے مطابق دھماکے بعد مزار پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔

ملزم نادر نے مجسٹریٹ کے روبرو اعتراف کیا کہ اس کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے ۔


مزید پڑھیں : سانحہ سیہون کا مرکزی ملزم نادرجکھرانی عرف مرشد گرفتار


یاد رہے کہ 17 نومبر کو سانحہ سیہون کے مرکزی ملزم نادر جاکھرانی عرف مرشد گرفتار کیا گیا تھا ، دہشتگرد نے خودکش بمبار کو مزار تک پہنچایا تھا۔

 

گرفتار ملزم نادرجکھرانی عرف مرشد کا تعلق راجن پورپنجاب سے ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ ملزم نے افغانستان سے لائے گئے خودکش بمبار کو مزار تک پہنچایا تھا، ساتھی دہشتگرد سانحہ کا ماسٹر مائنڈ ڈاکٹرغازی مستونگ آپریشن میں مارا جا چکا ہے، دہشت گرد سے اسلحہ اور دھماکاخیز مواد بھی برآمدہوا تھا۔

واضح رہے کہ رواں برس فروری میں لعل شہباز قلندر کےمزار میں اس وقت حملہ کیا گیا جب دھمال ڈالی جارہی تھی۔ حملے اسی سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top