site
stats
پاکستان

خدیجہ حملہ کیس: کیس کی روزانہ سماعت نہ کرنے کی استدعا مسترد

لاہور: صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں لاہور ہائیکورٹ نے قانون کی طالب علم خدیجہ پر چھریوں کے 20 سے زائد واروں کے حملہ کیس میں ملزم کی روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل نہ کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں خدیجہ حملہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواست میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے مقدمہ کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے انتظامی حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران متاثرہ طالبہ خدیجہ صدیقی بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔ ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ یہ مقدمہ بھی دیگر مقدمات کی طرح ہے، اس لیے اس کی سماعت روزانہ کے بجائے دیگر مقدمات کی طرح معمول کے مطابق کی جائے۔

مزید پڑھیں: خنجر کے وار سہنے والی خدیجہ ملزم کے ساتھ امتحان دینے پر مجبور

وکیل کے مطابق ملزم کو روازنہ کالج بھی جانا ہوتا ہے، اس لیے روزانہ کی بنیاد پر سماعت روکی جائے۔

ہائیکورٹ نے ملزم کی استدعا مسترد کردی اور قرار دیا کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہونے سے درخواست گزار کے حقوق سلب نہیں ہوں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کے حق میں بہتر ہے کہ وہ اپنے اوپر لگے الزام سے جلد بری ہو جائے۔

یاد رہے کہ خدیجہ صدیقی لا کالج کی طالبہ تھیں اور ان پر چھریوں سے وار کرنے والا ملزم شاہ حسین ان کا ہم جماعت تھا۔

دونوں ہم جماعت دوست تھے تاہم ایک سال قبل اختلافات کے بعد خدیجہ نے ملزم سے دوستی ختم کردی جس پر انتقاماً شاہ حسین خدیجہ پر تیز دھار آلے سے گردن، سینے اور ہاتھ پر 23 ضربیں لگا کر فرار ہوگیا تھا۔

خدیجہ کئی ماہ تک اسپتال میں زیر علاج رہیں۔ اس دوران ملزم شاہ حسین اثر و رسوخ کے باعث واقعے کے دو ماہ بعد ہی ضمانت پر رہا ہوگیا تھا۔

چند روز قبل خدیجہ نے ملزم کے ساتھ دوبارہ ایک ہی کمرہ امتحان میں بیٹھ کر پرچہ بھی دیا تھا۔

میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک بار پھر ملزم کو عدالت طلب کرلیا اور کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top