خدیجہ کیس، ملزم کے خلاف اہم شواہد مل گئے، فیصلہ 29 جولائی کو ہوگا khadija
The news is by your side.

Advertisement

خدیجہ کیس، ملزم کے خلاف اہم شواہد مل گئے، فیصلہ 29 جولائی کو ہوگا

لاہور : خدیجہ قاتلانہ حملہ کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے ہیلمٹ کی فرانزک ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی ہے جس سے کیس اہم موڑ میں داخل ہو گیا ہے جب کہ اہم کیس کا فیصلہ 29 جولائی کو سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق قانون کی طالبہ خدیجہ کے وکیل نے قاتلانہ حملہ کرنے والے ہم جماعت کے ہیلمٹ کی ڈی این اے فرانزک رپورٹ عدالت میں جمع کرادی ہے جس کے تحت ہیلمٹ سے ملا خون خدیجہ کے خون کے نمونوں سے جب کہ پسینوں کے ذرات کے نمونے ملزم کے پسینے سے مطابقت رکھتے ہیں۔

خیال رہے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجے جانے والا ہیلمٹ قاتلانہ حملے کے وقت ملزم شاہ حسین نے پہن رکھا تھا اور حملے کے بعد گھبراہٹ کی وجہ سے ہیلمٹ گر گیا تھا جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور بعد ازاں خدیجہ کے وکیل نے ہیلمٹ کو فرانزک لیب بھیج کر ڈی این اے کروایا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 3 مئی کو نجی لاء کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی کو ہم جماعت شاہ حسین جو معروف وکیل کا بیٹا بھی ہے نے چھریوں کے 32 وار کر کے شدید زخمی کردیا تھا تاہم خوش قسمتی سے مہینوں موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خدیجہ کو نئی زندگی مل گئی تھی۔

تاہم قانون کی طالبہ خدیجہ کا امتحان یہی پر بس نہیں ہوا بلکہ جب اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی تو اس کے سامنے سب بڑی رکاوٹ خود وکلاء برادری بنی جہاں ملزم کے والد نے اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خدیجہ اور اس کے خاندان کو مقدمہ سے باز رکھنے کے ہتھکنڈے جاری رکھے۔

خوش قسمتی سے سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زور پکڑ گیا اور پھر الیکڑانک میڈیا نے بھی اس کیس کو بھرپور انداز سے اُٹھایا اور بلآخر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے 24 مئی کو جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسین اعوان کو روزانہ کی بنیاد پر کیس کی کارروائی کرتے ہوئے 30 دن میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں