The news is by your side.

Advertisement

خدیجہ صدیقی حملہ کیس :مجرم شاہ حسین کی نظرثانی درخواست خارج ، سزا کا فیصلہ برقرار

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے خدیجہ صدیقی حملہ کیس کے مجرم شاہ حسین کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے شاہ حسین کی پانچ سال سزا کا فیصلہ برقرار رکھا ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے خدیجہ صدیقی حملہ کیس میں مجرم شاہ حسین کی نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔

دور ان سماعت وکیل مجرم شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہاکہ خدیجہ اور شاہ حسین کے انتہائی قریبی تعلقات تھے، کیسے ممکن ہے خدیجہ نے حملے کے وقت مجرم کو نہ پہچانا ہو، شاہ حسین پر چھری کے 23 وار کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

شاہ خاور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ خدیجہ کا ڈرائیور اور چھوٹی بہن بھی شاہ حسین کو جانتے تھے، وقوعہ کے 23 دن بعد شاہ حسین کا نام مقدمہ میں شامل کیا گیا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق خدیجہ پانچ دن بعد بیان ریکارڈ کرانے کے قابل ہوئی، قتل اور اقدام قتل کے مقدمہ میں فرق ہوتا ہے، مارنے کی نیت دے ایک بھی زخم آ جائے تو اقدام قتل کا کیس بنتا ہے۔

مزید پڑھیں : خدیجہ حملہ کیس ، مجرم کی سزا کیخلاف نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر

جسٹس آصف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ جو حملے کی نئے سے آئے وہ للکارتا نہیں، فیصلوں میں غلطی ہو تو درستگی کرکے خوشی ہوتی ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے خدیجہ صدیقی حملہ کیس کے مجرم شاہ حسین کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے شاہ حسین کی پانچ سال سزا کا فیصلہ برقرار رکھا۔

یاد رہے کہ شاہ حسین نے ساتھی طالبہ کو چھریوں کے وار سے زخمی کیا تھا ،ٹرائل کورٹ نے شاہ حسین کو پانچ سال سزا دی، ہائی کورٹ نے بری کر دیا تھا ،سپریم کورٹ نے خدیجہ صدیقی کی اپیل پر سزا بحال کر دی تھی ،سزا بحالی کیخلاف شاہ حسین نے نظرثانی کیلئے رجوع کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں