کالعدم جماعت الاحرار کا سربراہ عمرخالد خراسانی ڈرون حملے میں ہلاک -
The news is by your side.

Advertisement

کالعدم جماعت الاحرار کا سربراہ عمرخالد خراسانی ڈرون حملے میں ہلاک

کابل: امریکی ڈرون حملے میں زخمی ہونے والا کالعدم جماعت الاحرار کا سربراہ عمر خالد خراسانی ہلاک ہوگیا، حملہ دو روز قبل افغان سرحدی علاقوں خوست اور پکتیکا میں کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق خالد خراسانی افغان حدود میں کیے جانے والے امریکی ڈرون حملے میں شدید زخمی ہوا تھا جس کے بعد اسے زخمی حالت میں ناریئے کنڈاؤ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

مذکورہ ڈرون حملے 2 روز قبل افغان سرحدی علاقوں خوست اور پکتیکا میں کیے گئے تھے اور ان کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ پاکستانی سرحدی علاقہ کرم ایجنسی بھی ان کا ہدف تھا۔

تاہم بعض ازاں پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے واضح کیا تھا کہ کرم ایجنسی میں ڈرون حملے کی خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں اور پاکستانی حدود میں کہیں بھی کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈرون حملے پاکستانی علاقوں میں نہیں ہوئے، آئی ایس پی آر

ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اپنے سرحدی علاقوں میں مکمل طور پر الرٹ ہیں اور پاک فوج افغان سرحد پر مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں پاکستان کی سفارش پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے کالعدم تنظیم جماعت الاحرار پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے تنظیم کے اکاؤنٹ منجمد کردیے تھے جبکہ ارکان پر سفری پابندیاں اور اسلحے کی فروخت پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔

جماعت الاحرار کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ جماعت الاحرار افغان صوبہ ننگر ہار سے آپریٹ ہورہی تھی۔ کالعدم جماعت پاکستان میں کئی دہشت گرد حملوں میں ملوث رہ چکی ہے۔

دوسری جانب خالد خراسانی کی ہلاکت کے بعد خلیفہ عثمان منظور حافظ اللہ کو کالعدم جماعت الاحرار کا نیا سربراہ بنائے جانے کا امکان ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں