The news is by your side.

Advertisement

جہانگیر ترین نے خالد مقبول کو کابینہ میں دوبارہ شمولیت کی دعوت دے دی

کراچی : پی ٹی آئی رہنما جہانگیرترین نے خالد مقبول کو کابینہ میں دوبارہ شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے مسائل اہمیت کے حامل ہیں لیکن کچھ چیزیں ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا۔

یہ بات انہوں نے بہادرآباد کراچی میں متحدہ رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر کہی، تفصیلات کےمطابق اتحادیوں کو منانے کے مشن پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیرترین اور وزیر دفاع پرویزخٹک ایم کیوایم کے مرکز بہادرآباد پہنچے جہاں انہوں نے متحدہ رہنماؤں سے ملاقات کی۔

پی ٹی آئی کے وفد میں جہانگیرترین، وفاقی وزراء اسد عمر، پرویزخٹک کے علاوہ فردوس شمیم نقوی،خرم شیرزمان اورحلیم عادل شیخ بھی موجود تھے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ رہنماؤں کی گفتگو کے دوران جہانگیر ترین نے خالد مقبول کو کابینہ میں دوبارہ شمولیت کی دعوت دی۔

ایم کیو ایم نے تمام مطالبات اور دونوں تحریری معاہدے جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کے سامنے رکھ دئیے، وزارت کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کابینہ میں شامل ہونا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ایم کیوایم کے مسائل زیادہ اہم ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ مسائل کب حل ہوں گے، ہم نے17ماہ تک انتظار کیا مگر صرف دعوے اور وعدے ملے۔

جہانگیرترین نے کہا کہ ہمارے لیے بھی ایم کیوایم کے مسائل اہمیت کے حامل ہیں، لیکن کچھ چیزیں ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، خالد بھائی ہم چاہتے ہیں کہ آپ ساتھ رہ کر ملک و کراچی کی خدمت کریں۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک کی خدمت ہمیشہ کی ہے اور کریں گے، ملک کی خدمت کیلئے کسی وزارت کی ضرورت نہیں، ہمارے لئے عوام کے مسائل اہم ہیں ایم کیوایم کے دفاتر بھی کھلنے چاہئیں۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ فاٹا کو پیکج مل جاتا ہے، کراچی کو ایک ارب کیلئے ترسایا جارہا ہے جبکہ محمد حسین نے کہا کہ بتایا جائے کونسی آئینی شق ہے جو کراچی کو فنڈز دینے سے روکتی ہے۔

اس موقع پر پرویز خٹک نے کہا کہ خالد بھائی ہم آپ کے مسائل حل کرنے آئے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے خصوصی طور پر آپ کے پاس بھیجا ہے۔

یاد رہے 12 جنوری کو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے استعفی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے دوسرے ہی روز 13 جنوری کو وفاقی وزیر اسد عمر ایم کیو ایم پاکستان کو منانے بہادرآباد گئے تھے تاہم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنا فیصلہ واپس لینے سے صاف انکار کردیا تھا اور پھر 16 جنوری کو اپنا استعفی بھی وزیر اعظم عمران خان کو ارسال کردیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں