The news is by your side.

Advertisement

ایک مشہور شعر جس کے خالق کا نام بہت کم لوگ جانتے ہیں

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

یہ شعر آپ نے بھی ضرور سنا یا پڑھا ہو گا۔ مشاہیرِ عالم یا کسی معروف ہستی کے سانحۂ ارتحال کی خبر یا مضمون کا آغاز اکثر اس شعر سے کیا جاتا ہے جس کے بعد افسوس ناک واقعے سے متعلق ضروری تفصیل بیان کی جاتی ہے۔

اہلِ زبان خاص طور پر باذوق لوگ کسی خاص موقع پر جب اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کرتے ہیں تو ان اشعار کا سہارا لیتے ہیں جو ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں یا زبان زدِ عام ہوں۔

کیا آپ شعر کے خالق کا نام جانتے ہیں؟ یہ شعر خالد شریف کا ہے جو ایک ادیب، مدیر اور ناشر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یہاں ہم اپنے باذوق اور شعر و ادب کے رسیا قارئین کے لیے خالد شریف کا مختصر تعارف اور وہ غزل نقل کررہے ہیں جس کا یہ مشہور شعر ہماری سماعتوں میں محفوظ ہے۔

خالد شریف کا تعلق انبالہ (ہندوستان) سے ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے راولپنڈی آگیا جہاں تعلیمی مراحل طے کرتے ہوئے خالد شریف اردو اور فارسی میں دل چسپی لینے لگے اور پھر شاعری کی طرف مائل ہوگئے اور آج شعروسخن کی دنیا میں الگ پہچان رکھتے ہیں۔

خالد شریف کی مشہور غزل ملاحظہ کیجیے۔

رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا
جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

دل چسپ واقعہ ہے کہ کل اک عزیز دوست
اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا

کتنی سدھر گئی ہے جدائی میں زندگی
ہاں وہ جفا سے مجھ پہ تو احسان کر گیا

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا

Comments

یہ بھی پڑھیں