ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

خلیفہ عبدالحکیم:‌ جامع کمالات، ایک ہمہ گیر شخصیت

اشتہار

حیرت انگیز

ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کو علم و ادب کی دنیا میں جو امتیاز اور مرتبہ حاصل ہے، وہ بہت کم شخصیات کو نصیب ہوتا ہے، کیوں کہ وہ نہ صرف شاعر تھے بلکہ ایک فلسفی، دانش ور اور ماہرِ اقبالیات کے طور پر بھی پہچانے جاتے تھے۔ ان کی ظرافتِ طبع اور بذلہ سنجی بھی مشہور رہی ہے۔

خلیفہ عبدالحکیم کو جامع کمالات اور ہمہ جہت کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انھوں نے ادبی تنقید بھی لکھی اور تحقیق و تراجم میں بھی اپنے فن و کمال کے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی کئی تصانیف اقبال شناسی کا ذریعہ ہیں اور بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ 12 جولائی 1894ء کو لاہور کے کشمیری گھرانے میں آنکھ کھولنے والے عبدالحکیم کے والد پشمینے کا کاروبار کرتے تھے۔ انھوں نے لاہور سے 1911ء میں میٹرک کیا، پھر علی گڑھ میں داخلہ لیا اور ایف۔ اے کے بعد دہلی آگئے۔ یہاں سینٹ اسٹیفن کالج سے 1917ء میں ایم۔ اے کر کے لاہور واپس چلے گئے جہاں قانون کی تعلیم مکمل کی۔ ایل ایل۔ بی کی ڈگری لینے کے باوجود باقاعدہ وکالت کبھی نہیں کی۔ مطالعہ کی عادت تو پختہ ہوچکی تھی، اسی زمانہ میں قلم بھی تھام لیا۔ اگست 1919ء میں علامہ اقبال کی سفارش پر حیدر آباد دکن کی مشہور جامعہ عثمانیہ میں فلسفے کے اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1922ء میں ڈاکٹریٹ کے لیے جرمنی گئے اور 1925ء میں ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ۔ ڈی کرکے دوبارہ حیدرآباد دکن چلے گئے۔ انھیں عثمانیہ یونیورسٹی میں فلسفہ کا صدرِ شعبہ مقرر کردیا گیا۔ 1943ء میں خلیفہ عبدالحکیم کو امر سنگھ کالج سرینگر سے پیشکش ہوئی تو وہاں پرنسپل ہوگئے۔ بعد میں کشمیر میں ناظمِ تعلیمات بھی رہے۔ 1947ء میں مستعفی ہو کر ایک مرتبہ پھر حیدر آباد دکن پہنچے اور ڈین آف آرٹس فیکلٹی مقرر ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت نے حیدرآباد دکن پر قبضہ کرلیا تو 1949ء میں خلیفہ عبدالحکیم لاہور ہجرت کرگئے۔ لاہور میں 1950ء میں ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ قائم ہوا تو وہ اس کے پہلے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔

خلیفہ صاحب نے ہجرت کے بعد پاکستان میں جہاں علمی و ادبی مشاغل اور تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا وہیں انھیں قومی اور بین الا قوامی مذاکروں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔ ان اجتماعات میں وہ اپنے اسلامی فکر و فلسفہ کے ساتھ اقبال کا پیغام عام کرتے رہے۔ خلیفہ عبدالحکیم نے ہر موضوع پر بہت خوب اور معنی خیز انداز میں اپنا مؤقف قارئین کے سامنے پیش کیا۔ ایک سال اقبال ڈے پر ان کے ایک مقالہ کا عنوان تھا، ”اقبال عاشقی کا گناہ گار نہ تھا۔” یہ مقالہ سینٹ ہال میں پڑھا گیا اور اسے خلیفہ عبدالحکیم کی معنی آفرینی اور زورِ کلام کے باعث بہت سراہا گیا۔ امریکہ اور ایران میں “اسلام میں تصورِ قانون” کے موضوع پر خطبہ اور پہلی بار ایران میں فارسی زبان میں تقریر میں بھی اسلامی فکر اور اقبال کے نظریے کو پیش کیا جس کی بہت تعریف کی گئی۔

خلیفہ عبدالحکیم کی شخصیت ہمہ جہت پہلوؤں سے آراستہ تھی۔ انھوں نے جہاں اقبالیات کو اپنا موضوع تحریر بنایا ہے وہاں اردو اور مغربی ادیبوں پر بھی تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔ ان کا اپنا انداز بیان اور اسلوب منفرد اور غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ خلیفہ عبدالحکیم ماہرِ‌ اقبالیات تھے بلکہ رومؔی اور غالؔب شناسی پر بھی ان کی تصانیف اہمیت کی حامل ہیں۔

30 جنوری 1959ء کو خلیفہ عبدالحکیم حرکتِ قلب بند ہونے سے وفات پا گئے تھے۔ وہ میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ خلیفہ عبدالحکیم کی چند مشہور تصانیف میں نفسیات وارداتِ روحانی، داستانِ دانش، تشبہاتِ رومی، اسلام کی بنیادی حقیقتیں، تلخیصِ خطبات اقبال، افکار غالب، حکمت رومی اور فکر اقبال شامل ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں