دوحہ (05 اکتوبر 2025): حماس کے سینئر رہنما اور جنگ بندی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ دوحہ حملے کے بعد پہلی بار منظر عام پر آ گئے۔
آج اتوار کے اوائل میں قطری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نئی فوٹیج میں حماس کے سینئر عہدیدار خلیل الحیہ، گزشتہ ماہ دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پہلی بار دکھائی دیے ہیں۔
خلیل الحیہ نے قطری چینل العربی کو انٹرویو دیا جو نشر ہونے سے قبل ریکارڈ شدہ تھا، الحیہ نے غزہ کی پٹی میں شہید ہونے والوں کے بارے میں بات کی اور فلسطینی عوام کی جدوجہد کو ایک ’’قربانی‘‘ کے طور پر بیان کیا، جس میں صبر اور فتح کی دعا کی گئی۔
#Hamas‘ chief negotiator Khalil al-Hayya, has made his first public appearance since surviving an Israeli assassination attempt in #Doha last month, an #attack that killed both his son Hummam al-Hayya and his chief of staff Jihad Lubad. In a pre-recorded video aired on… pic.twitter.com/XyubEPKkjC
— Doha News (@dohanews) October 5, 2025
انٹرویو میں الحیہ نے حملے میں اپنے بیٹے اور اپنے چیف آف اسٹاف کی شہادت کا بھی بتایا، اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قاتلانہ حملہ کر کے ان سمیت تمام فلسطینی مزاحمت کاروں کو ایک ساتھ شہید کرنے کی کوشش کی تھی۔
اسرائیل ابتدائی انخلا کے معاملے پر متفق، ٹرمپ نے حماس کو آگاہ کردیا
اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ قطر حملے میں الحیہ مارے گئے ہیں تاہم حماس نے واضح کیا تھا کہ الحیہ سمیت حماس کی قیادت محفوظ رہی ہے۔
انھوں نے کہا ’’ہم اپنے لوگوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے نقصان پر غمگین ہیں، ہم ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی فلسطینی قوم سے، خصوصاً غزہ کے عوام سے، جو آج اپنی جدوجہد اور ثابت قدمی میں پوری قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لوگوں کو صبر، تسلی اور سکون عطا فرمائے، اور ہمارے دشمن کو شکست دے۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


