The news is by your side.

Advertisement

انسان کب مرتبۂ کمال کو پہنچتا ہے؟

میرے بھائی! آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ انسان باکمال کب ہوتا ہے؟ تو میرا جواب سنیے۔

انسان اس وقت کمال کی طرف محوِ سفر ہوتا ہے، جب وہ یہ محسوس کرنے لگے کہ وہ خلا کے مانند بے حد ہے، وہ بحرِ ناپیدا کنار ہے، وہ دائم روشن آگ ہے، وہ نورِ سرمدی ہے، وہ ہوا ہے جو کبھی چلتی، کبھی رک جاتی ہے، وہ بادل ہے، جو چمکتا، کڑکتا اور برستا ہے، وہ بل کھاتی ہوئی ترنم ریز ندی ہے، وہ درخت ہے، جو موسمِ بہار میں شاداب رہتا اور موسمِ خزاں میں بے لباس ہوجاتا ہے، وہ بلند و بالا پہاڑ ہے، وہ نشیب و فراز سے معمور وادی ہے، وہ کھیت ہے، جو کبھی لہلہا اٹھتا اور کبھی خشک ہوجاتا ہے۔

جب انسان کے دل میں اپنے بارے میں اس قسم کے احساسات پیدا ہوں تو وہ کمال کا آدھا سفر طے کر لیتا ہے۔ اب اگر اسے اس کی انتہا تک پہنچنا ہے، تو پھر اسے اپنی پوری حقیقت، اپنے کامل وجود کا ادراک ہونا چاہیے۔

اسے یہ احساس ہو کہ وہ پوری طرح اپنی ماں کی مدد پر منحصر ایک بچہ ہے، وہ ایک پورے گھر کا ذمے دار اور سرپرست بوڑھا ہے، وہ ایک نوجوان ہے جو اپنی آرزووں اور امنگوں کے درمیان ہچکولے کھا رہا ہے، وہ ایک ادھیڑ عمر کا انسان ہے، جس کی اپنے ماضی و مستقبل سے کشاکش جاری ہے، وہ ایک عابدِ شب زندہ دار ہے، وہ ایک قیدی مجرم ہے، وہ کتابوں کے بیچ رہنے والا ایک عالم ہے، وہ جہالت کی تاریکیوں میں رات دن گزارنے والا ایک جاہل ہے، وہ اپنے ایمان کے پھولوں اور وحشت کے کانٹوں کے بیچ زندگی گزارنے والی ایک راہبہ ہے، وہ اپنی ضرورت و کم زوری کے ہاتھوں مجبور ایک بدکردار عورت ہے، وہ دنیا کی ٹھوکروں کو برداشت کرنے والا ایک فقیرِ بے نوا ہے، وہ اپنے غرور و لالچ کا اسیر ایک ثروت مند ہے، وہ شام کی تاریکیوں اور صبح کی روشنیوں سے متاثر ہونے والا ایک شاعر و ادیب ہے۔

جب انسان اتنے تجربوں سے گزرتا اور ان تمام امور کے حقائق و گیرائی سے اس کا سامنا ہوتا ہے، تب وہ مرتبۂ کمال تک پہنچ جاتا اور روئے زمین پر سایۂ خداوندی ہوجاتا ہے۔

(یہ پارہ خلیل جبران خلیل کے ایک درس سے لیا گیا ہے جس کا اردو ترجمہ نایاب حسن نے کیا ہے، 1930 میں وفات پانے والے اس لبنانی نژادا امریکی شاعر اور ادیب کو جہاں دنیا میں بحیثیت شاعر بہت شہرت اور مقبولیت ملی، وہیں خلیل جبران ایک مدبّر کی حیثیت سے اپنے فلسفیانہ مضامین کے سبب بھی پسند کیے جاتے ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں