site
stats
بزنس

خانانی اینڈکالیا: ایف آئی اے ملزمان کو الزامات کی دستاویز فراہم کرے‘ عدالت

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں منی چینجرخانانی اینڈ کالیا کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کا معاملہ، منی چینجرخانانی اینڈ کالیا کے مالکان کے خلاف ایف آئی اے کی اپیل کی سماعت ہوئی، عدالت نے ایف آئی اے کو الزامات کی دستاویزات ملزمان کو فراہم کر نے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے سماعت کے دوران موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے منی چینجر خانانی اینڈ کالیا کے خلاف از سر نو تحقیقات کا فیصلہ کرلیا ہے، ایف آئی اے نے تحقیقات کے حوالے عدالت کو آگاہ کردیا۔

ایف آئی اے نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے معاملے پر ایف آئی اے افسران کو بھی شامل تفتیش کرنا ہے‘ چند ایف آئی اے افسران نے منی چینجر خانانی اینڈ کالیا کے خلاف جان بوجھ کر شواہد چھپائے۔ حقائق چھپانے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔

درخواست کنندہ نے اپیل کی کہ ماتحت عدالت نے بھی اہم ترین شواہد کو نظر انداز کیا جس سے ملزمان بری ہوئے، ایف آئی اے نے کہا کہ ماتحت عدالت سے بریت کے بعد تمام ملزم فرار ہوچکے ہیں، ملزمان نے رہائشی پتے کا بھی غلط انداراج کرایا رکھا تھا، تاہم اب ملزم عاطف اور سید مسعود کو تلاش کرلیا ہے جبکہ ملزم نعیم، عاطف پولانی اور وجاہت کی تلاش جاری ہے۔


معروف کرنسی ڈیلرجاوید خانانی آٹھویں منزل سےگرکرجاں بحق


دوسری جانب مناف کالیا کی جانب سے شوکت حیات ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ داخل کردیا ہے اور اب وہ اس مقدمے میں ایف آئی اے کے خلاف ملزم کی پیروی کریں گے۔

عدالت نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ ایف آئی اے الزامات کی دستاویزات ملزمان کو فراہم کرے جس کے لیے تحقیقاتی ادارے نے دو ہفتے کی مہلت طلب کرلی ہے۔

یاد رہے کہ منی چینجرخانانی اینڈ کالیا کے خلاف دو ہزار گیارہ میں کارروائی کی گئی تھی، ماتحت عدالت نے عدم ثبوت پر تمام ملزموں کو بری کردیا تھا۔

کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکی ہدایت پرایف آئی اے کی خصوصی کمیٹیتشکیل دی گئی تھی جس کا مقصد خانانی اینڈ کالیا اور ایگزیکٹ کیس کی تفتیش کو مزید آگے بڑھانا تھا۔

  یادرہے کہ اسی مقدمے میں ملوث ایک اور ملزم جاوید خانانی نے گزشتہ برس دسمبر میں بہادرآباد کے علاقے میں زیرِ تعمیرعمارت سے چھلانگ لگا کرمبینہ طور پرخود کشی کرلی تھی‘ زیرِ تعمیر عمارت متوفی کی ذاتی ملکیت تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top