The news is by your side.

Advertisement

ختم نبوت ﷺ کے قانون کی شق میں تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں، شفقت محمود

اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات  میں ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا، مخالفین سازش کر کے ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فارم 23 سے متعلق قوم کو بتانا چاہتا ہوں، یہ وہ فارم ہے جس میں امیدوار اپنے گواشواروں کی تفصیلات تحریر کرتا ہے جبکہ فارم 27 میں انتخابی مہم کے اخراجات بتائے جاتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں آئینی شق کرنے والی تبدیلی کرنے والی کمیٹی نے فارم 3 ختم نبوت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کی جس سے میرا کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ فارم میرے حصے میں نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا ختم نبوت ﷺسے متعلق آئینی ترمیم پر راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم

اُن کا کہنا تھا کہ مخالفین نے زبردستی تعلق جوڑ کر سازش کی اور ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کا ملبہ تحریک انصاف پر ڈالنے کی کوشش کی مگر اس سے ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن نے گزشتہ برس آئین کی انتخابی شق 203 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا تھا جس کے بعد اعتزاز احسن نے اس بل کی مخالفت کے لیے قرارداد ایوانِ بالا میں پیش کی مگر ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے حکومت کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد اس ترمیم کو صرف ایک ووٹ سے منظور کرلیا گیا تھا۔

حکومت نے آئین کے انتخابی آرٹیکل 203 میں ترمیمی قرار داد منظور کروائی اور پھر اس پر صدر مملکت نے دستخط کیے جس کے بعد نوازشریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا پارٹی صدر تعینات کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ختم نبوت کا معاملہ، ن لیگ کوبڑادھچکا،5 اراکین اسمبلی مستعفی

انتخابی آرٹیکل میں ترمیم کی منظوری کے بعد شیخ رشید نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا تھا کہ حکومت نے اس قانون کی آڑ میں ختم نبوت کا قانون بھی ختم کردیا جس کے بعد عوامی حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا۔

حکومت نے پہلے ختم نبوت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کی باتوں کو مسترد کیا تاہم اگلے ہی روز امیدوار کے حلف نامے کو اصلی شکل میں بحال کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا، تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے فیض آباد انٹرچینج پر مظاہرہ کیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں