اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ جس پر اعتراض کیا جائے۔
پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ قومی اسمبلی سے منگل یا بدھ کو 27ویں ترمیم منظور ہوسکتی ہے، اسمبلی سے ترمیم منظور کروانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ترمیم سے متعلق حکومت کوئی جلدی نہیں کررہی، ترمیم سے متعلق دو ہفتوں سے بحث ہورہی ہے، کل ہوسکتا ہے کہ ایوان میں بھی اس پر بحث ہو، ترمیم ایوان میں لے جانے سے پہلے اتحادیوں سے مشاورت ضروری تھی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ 8، 10 روز سے 27ویں ترمیم پر مذاکرات ہوئے، وزیراعظم، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ رابطے میں رہے، گزشتہ کچھ دنوں میں اتحادیوں سے ترمیم سے متعلق مشاور کی گئی، میرا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے بھی مشاورت کی گئی ہے اگر نہیں کی گئی تو کرنی چاہیے۔
یہ پڑھیں: سینیٹ سے 27ویں ترمیم کی منظوری، وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کو مدعو کرلیا
خواجہ آصف نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ بعض شقوں پر ہمارے اتحادیوں کو اعتراض ہو، ہوسکتا ہے آرٹیکل 243 کے علاوہ دیگر شقوں پر اتحادیوں کو اعتراضات ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کا عہدہ پوری دنیا میں تاحیات ہوتے ہیں، ڈیزینیشن مدت کے مطابق ہوتی ہے، منگومریو اوررومیل بھی تاحیات فیلڈ مارشل کے عہدے پر تھے، امریکا میں 6 اسٹار یا 5 اسٹار جنرل تاحیات ہوتے ہیں، ڈیزنیشن استعمال کرنے اور یونیفارم پہننے کی تاحیات سہولت ہوتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ کہنا کہ مدت کو تاحیات کیا جارہا ہے اس پر لوگوں کو غلط فہمی ہورہی ہے، مدت جس طرح پہلے قانون میں موجود ہے ویسے ہی رہے گی، چیئرمین جوائنٹس آف اسٹاک کے نعم البدل کا عہدہ لیا جارہا ہے، پاور میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا، آئندہ دو سے تین روز میں صورتحال واضح ہوجائے گی اور افواہیں دم توڑ جائیں گی۔


