ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

سی ڈی ایف (چیف آف ڈیفنس فورسز) کا عہدہ آرمی کے پاس ہی رہے گا، خواجہ آصف

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سی ڈی ایف (چیف آف ڈیفنس فورسز) کا عہدہ آرمی کے پاس ہی رہے گا ، آرمی چیف ہی ہمیشہ سینئرموسٹ پوزیشن سنبھالتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام "اعتراض ہے” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عشایئے میں تقریر ضرور کی گئی، تاہم ترمیم سے متعلق کوئی تجویز یا تبدیلی عشایئے کے دوران زیرِ بحث نہیں آئی۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم ابھی منظور ہونی ہے، لہٰذا ایوان میں منظوری کے وقت مزید ترامیم شامل ہونے کا امکان موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کے قیام سے متعلق شق آئینی نوعیت کے مقدمات کے لیے ہوگی، کیونکہ سپریم کورٹ میں 55 ہزار کیسز زیرِ التوا ہیں، جن میں سے 15 فیصد سے بھی کم آئینی نوعیت کے ہیں، "آئینی عدالت عام سول یا کرمنل کیسز نہیں سنے گی اور ایسی عدالتیں دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔”

خواجہ آصف نے کہا کہ ججز کے تبادلے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں ہوگا، یہ مکمل طور پر عدلیہ کا اپنا معاملہ ہوگا، "وزیراعظم یا کوئی بیوروکریٹ ججز کے تبادلے نہیں کرے گا، بلکہ متعلقہ فورم میں اپوزیشن کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں سی ڈی ایف (چیف آف ڈیفنس فورسز) کا عہدہ آرمی کے پاس ہی رہے گا، آرمی چیف ہی ہمیشہ سینئرموسٹ پوزیشن سنبھالتے ہیں۔ ترمیم ابھی منظور ہونی ہے، ہو سکتا ہے کوئی مزید ترمیم ہو جائے

نیوی اور ایئر فورس کی آپریشنل صلاحیتیں ان کے اپنے چیفس کے ماتحت ہوں گی، جبکہ ایئر چیف اور نیول چیف اپنے ڈومین میں خود مختار ہوں گے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ختم ہو چکے ہیں تاہم سیز فائر برقرار رہے گا۔ اگر افغانستان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی تو پاکستان بھی ردِعمل دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ "افغان طالبان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، مذاکرات کے دوران بھی انہوں نے جارحیت کا مظاہرہ کیا، جس سے ثالث بھی مایوس ہو چکے ہیں۔”

وزیر دفاع نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری رہے گا، "ہم نے نصف صدی تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی، مگر بدقسمتی سے انہوں نے پاکستان میں رہ کر پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری رکھیں۔”

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں