وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا ہے کہ لیڈر کی رہائی کے لیے احتجاج کریں لیکن ایوان ڈسٹرب نہ کریں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی اعلیٰ قیادت بھی جیلوں میں قید رہی لیکن ہم نے کبھی نواز شریف اور شہباز شریف کی گرفتاری پر ایوان کا تقدس پامال نہیں کیا۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ہم نے سسٹم اور ایوان کے تقدس کو داؤ پر نہیں لگایا، نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں نہیں جانا چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ سوا 2 سال میں کارروائی کا محور تحریک انصاف کے لیے ان کے لیڈر ہیں، یہ لوگ ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے، اس ادارے کو بھی ایک شخص کے لیے نشانہ بنایا۔
یہ پڑھیں: پی ٹی آئی میں کوئی ’’بانی‘‘ کی رہائی نہیں چاہتا، خواجہ آصف
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ شخصیات تو آنی جانی چیز ہیں، آنے والی نسلیں آگے آئیں گی، بڑی بڑی ہستیاں اس دنیا سے چلی گئیں، ان لوگوں کے رویے درست نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹھیک ہے لیڈر کی ان کو ہدایات آتی ہوں، مگر کوئی باہر سے اس ادارے کو کاری ضرب نہیں لگا سکتا۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خانم نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں کتابیں نہیں دی جارہیں وہ قید تنہائی میں ہیں، ان کے حقوق مانگنا تحریک انصاف کی سیاست میں مداخلت ہے تو کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی کہا ہے وہ عمران خان کے لیے کچھ کریں۔


