اسلام آباد : وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جس دن جنگ لپیٹی جائے گی، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے اضافے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کی ضرورت قرار دیا ہے۔
صحافی کے سخت سوال کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ معاشی دباؤ کی صورتحال میں حکومت کو کہیں سے تو فنڈز کا بندوبست کرنا ہے، لیوی کو ایک عارضی بندوبست ہے ، معاشی حالات کے پیشِ نظر یہ اقدامات ضروری ہیں
وزیر نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ متاثر ہوئی ہے، جس کا اثر پاکستان سمیت دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتوں پر پڑا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا عالمی جنگی صورتحال سے گہرا تعلق ہے، جس دن جنگ لپیٹی جائے گی، قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔
صحافی کے ایک سوال پر کہ کیا حکومت پیٹرول پر ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے عام لوگوں پر بوجھ ڈال رہی ہے، تو انہوں نے اسے "فلمی ڈائیلاگ” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، تاہم تسلیم کیا کہ قیمتوں میں اضافے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ مستقل نہیں رہے گی اور صورتحال بہتر ہوتے ہی عوام کو ریلیف ملے گا اور قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان کیلئے تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے اور ملک نے کئی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم سفارتی اور دفاعی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پائیدار امن نہ صرف پاکستان بلکہ سعودی عرب، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا، شام اور مصر سمیت مسلم دنیا کیلئے بھی فائدہ مند ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


