The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف ملک سے باہر جانا نہیں چاہ رہے تھے، خواجہ آصف

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نوازشریف ملک سے باہر جانا نہیں چاہتے تھے لیکن والدہ کے کہنے پر بیرون ملک علاج کے لیے تیار ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو 15 ماہ ہوگئے ہیں، اقتدار کی کچھ ریکوائرمنٹ ہوتی ہیں، اقتدارمیں بیٹھے لوگ مخصوص رویے اپناتے ہیں، صرف یہاں نہیں دنیا بھر میں یہی دستور ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تین بار وزیراعظم بننے والا آج زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے، نوازشریف اس صورت حال میں بھی ووٹ کو عزت دو کی جنگ نہیں بھولے، نوازشریف کو صحت کی صورت حال پر عدالتوں نے ریلیف دیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ ڈاکٹرز نے میرے سامنے کا کہا جتنا علاج کرسکتے تھے ہم نے کیا، ڈاکٹرز نے کہا کہ مزید علاج کے لیے ٹیکنالوجی اور ماحول موجود نہیں ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق سرکاری ڈاکٹرز نے کہا کہ آپ باہر جا کرعلاج کرائیں، ڈاکٹرز نے کہا کہ بیرون ملک تمام بیماریوں کا ایک چھت تلے علاج ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ضامن ہیں کہ نوازشریف واپس آئے گا، پاکستان کےعوام نوازشریف کے ضامن ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ عدالتی اہلکار نے لا افسر سے نوازشریف کی ضمانت کی درخواست پر پوچھا جس پر لاافسر نے جواب دیا نوازشریف مر جائے ہمارا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف بیمار بیوی کو چھوڑ کر لندن سے واپس آیا، نوازشریف کو پتا تھا کہ پکڑا جاؤں گا جیل ہو جائے گی، اس دوران نوازشریف کی بیوی دنیا سے رخصت ہوگئی، آج میاں صاحب کو 6،5 بیماریاں لاحق ہیں، مجھے یقین ہے نوازشریف 100فیصد واپس آئے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں