جمعرات, مارچ 12, 2026
اشتہار

پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خاتمے پر متفق ، اچھے تعلقات کی امید ہے، وزیر دفاع

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان دہشت گردی کے خاتمے پر متفق ہیں ، امید ہے کہ اب امن لوٹے گا اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات معمول پر آجائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے الجزیرہ عربیہ کوانٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک میں جاری دہشتگردی کے مسئلے کا خاتمہ ہے۔

خواجہ آصف نے امیرِ قطر، ترک صدر اور ترک وفد کے سربراہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور ترکی کی موجودگی اس معاہدے پر بذات خود ضمانت ہے، دونوں ممالک نے تسلیم کیا ہے کہ دہشتگردی ہی سرحدی کشیدگی کی اصل وجہ ہے، جس پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ دہشت گردی برسوں سے پاکستان، افغانستان کےسرحدی علاقوں کو متاثر کررہی ہے، گزشتہ ہفتے دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جھڑپ تک پہنچ گیا تھا، دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دہشت گردی کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے تدارک کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں گے ورنہ خطے کےامن کو خطرات لاحق ہوں گے ، یہ معاہدہ بنیادی طورپر قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے ہوا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات کوحتمی شکل دینے کیلئے ایک اوراجلاس آئندہ ہفتے استنبول میں ہوگا، جہاں معاہدے کی تفصیلات پر اتفاق کیا جائے گا۔

خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ افغان وزیر دفاع نے تسلیم کیا دہشت گردی ہی تناؤ کی اصل وجہ ہے جس پر قابو پایا جائے گا اور مؤثر طریقہ کار واضح کیاجائے گا تاکہ دونوں ممالک میں موجودہ مسائل کوحل کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ سالوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے ، امید ہے اب امن لوٹے گا اور پاکستان، افغانستان کے تعلقات معمول پرآجائیں گے۔

پاک افغان تجارت کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ پاک افغان تجارت اور ٹرانزٹ بھی دوبارہ شروع ہوگی، افغانستان پاکستانی بندرگاہ استعمال کرسکے گا، جن افغان مہاجرین کے پاس قانونی ویزے اور کاغذات ہیں وہ پاکستان میں رہ سکیں گے تاہم افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ایسی ہے، جس کے پاس دستاویز نہیں اس لئے واپسی جاری رہے گی۔

انھوں نے مزید کہا پاک افغان بارڈر کا استعمال بھی باضابطہ ہونا چاہیے جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے، خدشات کے خاتمے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہم 100 فیصد مطمئن ہیں، ہمیں آنے والے ہفتوں اورمہینوں میں دیکھنا ہوگا کہ معاہدے پر کتنا عمل ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان صدیوں سے ہمسائے ہیں، جغرافیہ بدلا نہیں جا سکتا،امید ہے معاہدے کے بعد دونوں ممالک اچھے تعلقات کیساتھ آگے بڑھ سکیں گے، برادرممالک قطر،ترکی کی موجودگی نے ہمیں اعتماد دیا ہے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں