The news is by your side.

Advertisement

“مولانا تفریحُ الملک” اور “مرزا پھویا” کون ہیں؟

خواجہ صاحب کا نام معلوم نہیں کب سے کانوں میں گونجا ہوا تھا، مگر دیکھا سب سے پہلے گوالیار کی بزمِ اردو میں۔

جب آپ نے خضر خان اور دیول دیوی کے متعلق اپنا وہ مقالہ پڑھا جس کا تعلق گوالیار ہی کے قلعے سے تھا اور جس میں ہندو مسلم اتحاد کا افسوں پھونکا گیا تھا۔

کھانے کی میز پر باقاعدہ تعارف کی رسم مشیر احمد علوی نے ادا کی۔ خواجہ صاحب بہت محبت سے ملے۔ اپنی ریلوے ٹرین نما پان کی ڈبیا سے پان نکال کر دیا۔ دیر تک دل چسپ گفت گو فرماتے رہے اور پھر دہلی جاکر روزنامچے میں وہ تمام گفت گو درج کر دی۔

دوسری مرتبہ دہلی ریڈیو اسٹیشن پر ملا۔ پھر اسی ڈبیا سے پان کھلایا، یہ گفت گو مختصر تھی اور قہقہے زیادہ تھے۔ تیسری مرتبہ آپ سے اس طرح ملاقات ہوئی کہ آپ لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے ایک تقریر براڈ کاسٹ کرنے لکھنؤ تشریف لا رہے تھے۔ ہم لوگ آپ کے خیر مقدم کے لیے رات ہی سے یک جا ہوگئے، اس لیے کہ صبح پانچ بجے ٹرین آتی تھی۔

مسٹر جگل کشور مہرا اسٹیشن ڈائریکٹر، ملک حسیب احمد پروگرام ڈائریکٹر، مسٹر غلام قادر فرید، مسٹر ہنس راج کوتھرا اور میں یہ سب کے سب ایک ہی کمرے میں فرشی بستر بچھا کر رات بھر سونے کے لیے جاگتے رہے، صبح آپ کا خیر مقدم کیا گیا۔

آپ کو اسی گھر میں مہمان بنایا گیا۔ تیسری ملاقات کے بعد ہی آپ نے دہلی جاکر اپنے اخبار ‘‘منادی’’ میں مجھے ‘‘تفریحُ الملک’’ کے خطاب سے سرفراز کر دیا اور پھر برابر شوکت تھانوی کے بجائے ‘‘مولانا تفریح الملک’’ لکھتے رہے۔

چوتھی مرتبہ مجھے اطلاع ہوئی کہ آپ بصیغۂ راز لکھنؤ تشریف لائے ہوئے ہیں۔ ڈھونڈتا ہوا پہنچا۔ بیٹے کی سسرال میں یہ خواجہ سمدھی صاحب نظامی پلاﺅ، زردہ، بالائی کھا رہے تھے، میں بھی ہاتھ دھو کر بیٹھ گیا اور پھر خواجہ صاحب کو ریڈیو اسٹیشن سے ایک تقریر کے لیے آمادہ کر لیا۔

اس مرتبہ خواجہ صاحب نے کچھ تجارتی معاملات مجھ سے طے کیے یعنی مجھ کو حکم دیا کہ میں منادی کے لیے ‘‘مرزا پھویا’’ کا فرضی روز نامچہ لکھوں اور اس کے معاوضہ میں جو کچھ مجھے دیا جائے اس سے انکار نہ کروں۔

میں کچھ دن تک یہ خدمت انجام دیتا رہا۔ آخر فرار کی ٹھانی اور چُپ ہوکر بیٹھ رہا۔ اگر کچھ دن آدمی روپوش رہے تو پھر شرمندگی سنگین سے سنگین تر ہوجاتی ہے اور عذرِ گناہ کے امکانات دور ہٹتے جاتے ہیں۔

چناں چہ یہی ہوا کہ اپنی کاہلی کی بدولت ایسے مشفق بزرگ، ایسے چہیتے دوست اور ایسے بے غرض مہربان کو ہاتھ سے کھو بیٹھا۔ وہ بیمار رہے، میں بے قرار رہا۔ انھوں نے آنکھوں کا آپریشن کرایا، ان کے یہاں حادثات ہوئے، مگر ہمت نہ ہوئی کہ تعزیت کروں۔ اور اب تک چوروں کی طرح مفرور ہوں۔ جُرم صرف اتنا ہے کہ مرزا پھویا نے لکھنا بند کیا۔ پھر اس کے بعد خط لکھنے کی ہمت نہ ہوئی اور اب خط لکھوں اور مراسم کی تجدید کروں تو کس منہ سے۔

خواجہ صاحب کا میں مرید نہیں ہوں، مگر ان سے محبت ضرور کرتا ہوں۔ وہ مجھے اپنی کاکلوں اور داڑھی کے ساتھ حسین نظر آتے ہیں۔ ان میں بلا کی دل کشی ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ حسن نظامی چلتے پھرتے پوسٹر ہیں اور میں کہتا ہوں کہ حسن نظامی نہ پوسٹر ہیں نہ پیر، نہ ادیب ہیں نہ مقرر، بلکہ وہ جادوگر ہیں۔ یقین نہ آتا ہو تو ان کے پاس جاکر دیکھیے۔

کیا لطف جو غیر پردہ کھولے
جادُو وہ جو سَر چڑھ کے بولے

(معروف ادیب اور شاعر شوکت تھانوی کی نادر روزگار شخصیت خواجہ حسن نظامی سے متعلق یادیں)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں