پیر, جولائی 13, 2026
اشتہار

خواجہ معین الدّین: بے مثال ڈرامہ نگار

اشتہار

حیرت انگیز

خواجہ معین الدّین کا نام اردو ڈرامہ اور تمثیل نگاری میں ایک قدآور شخصیت کے طور پر مشہور ہے اور وہ معیاری طنز و مزاح لکھنے والوں میں نمایاں ہیں۔ تعلیمِ بالغاں‌ پی ٹی وی کے مقبول ترین اور شان دار ڈراموں میں‌ سے ایک ہے۔ یہ خواجہ صاحب ہی کا تحریر کردہ ڈرامہ تھا۔

خواجہ معین الدین مارچ 1924ء میں حیدرآباد دکن کے متموّل گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اس دور میں حیدرآباد علم و ادب کا بڑا مرکز تھا۔ اسی ریاست کی علمی و ادبی فضا میں خواجہ صاحب نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ انھوں نے جامعہ عثمانیہ سے 1946ء میں بی اے کی سند حاصل کرنے کے بعد ریڈیو دکن کے لیے ڈرامے اور خاکے لکھنے کا آغاز کیا۔ وہ ریڈیو اور اسٹیج کی مقبولیت کا زمانہ تھا اور خواجہ صاحب نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا خوب اظہار کیا، مگر 1948ء میں سقوطِ دکن کے بعد وہ اہلِ خانہ کے ہمراہ کراچی آ گئے۔ یہاں خواجہ معین الدین نے جامعہ کراچی سے اُردو میں ایم اے کرنے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اپنایا، ساتھ ہی ان کا قلم بھی متحرک ہوگیا اور ڈرامہ لکھنے لگے۔ 1951ء میں خواجہ معین الدین نے صدائے کشمیر لکھا۔ اس کے اگلے سال 1952ء میں ڈرامہ ’’لال قلعے سے لالو کھیت‘‘ تک مشہور ہوا اور پھر 1954ء میں خواجہ معین الدین کا شہرۂ آفاق ڈرامہ ’’تعلیم بالغاں‘‘ اسٹیج پر پیش ہوا جو پُر مزاح ہی نہیں تھا، اس کا ہر مکالمہ جان دار اور اداکاری شان دار تھی۔ اس اسٹیج پلے کو کراچی کے مختلف مقامات پر کام یابی سے پیش کیا گیا اور اس کی شہرت ملک بھر میں ہوگئی رہا۔ یہ ڈرامہ پاکستان کا پہلا کلاسک ڈرامہ سمجھا جاتا ہے۔ مرزا غالب بندر روڈ پر ان کا مقبول ترین ڈرامہ تھا اور ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول ہوا۔ وہ بچّے بھی جو اس وقت خواجہ صاحب کی فکر، ان کے طنز اور کرداروں کی زبان سے ادا ہوتے مکالموں کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے تھے، اس ڈرامے کو ضرور دیکھا۔

9 نومبر 1971ء کو خواجہ صاحب کا انتقال ہوگیا تھا۔ ان کی تدفین کراچی کے سخی حسن قبرستان میں کی گئی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں