چیف جسٹس نے ذہنی مرض میں مبتلا قیدی کی پھانسی روک دی -
The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس نے ذہنی مرض میں مبتلا قیدی کی پھانسی روک دی

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان نے سزائے موت کے منتظر ذہنی مریض خضر حیات کی پھانسی تاحکم ثانی معطل کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے سزائے موت کے منتظر مریض خضر حیات سے متعلق درخواست پرسماعت کی۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ خبرپڑھی کسی خضر حیات نامی شخص کو پھانسی دی جا رہی ہے جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ خضرحیات کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ فوری طور پر معلوم کروائیں کہ وہ شخص ذہنی مریض ہے یا نہیں ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے خضر حیات کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اس پر سماعت 14 جنوری کے لیے مقرر کردی اور خضرحیات کی پھانسی کی سزا تاحکم ثانی معطل کردی۔

جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس سردار طارق مسعود 14 جنوری کو مذکورہ درخواست پرسماعت کریں گے۔

خضرحیات کے اہل خانہ نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص کو پھانسی دی جا رہی ہے عدالت اس کا نوٹس لے۔

یاد رہے کہ خضر حیات کو ساتھی پولیس اہلکار کو قتل کرنے پر اکتوبر2001ء میں مجرم قرار دیا گیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2 سال بعد 2003ء میں اسے سزائے موت سنائی تھی۔

خضرحیات کے اس سے قبل دو بار بلیک وارنٹ جاری ہوچکے ہیں اور دونوں بار لاہور ہائی کورٹ نے ان کی پھانسی پرعملدرآمد روک دیا تھا۔ جون 2015 میں خضرحیات کے بلیک وارنٹ جاری کیے تھے جسے آخری لمحات میں ہائی کورٹ نے منسوخ کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں