site
stats
شاعری

خودکشی

کر چکا ہوں آج عزم آخری
شام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میں
چاٹ کر دیوار کو نوک زباں سے ناتواں
صبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلند
رات کو جب گھر کا رخ کرتا تھا میں
تیرگی کو دیکھتا تھا سرنگوں
منہ بسورے، رہ گزاروں سے لپٹتے، سوگوار
گھر پہنچتا تھا میں انسانوں سے اکتایا ہوا
میرا عزم آخری یہ ہے کہ میں
کود جاؤں ساتویں منزل سے آج
آج میں نے پا لیا ہے زندگی کو بے نقاب
آتا جاتا تھا بڑی مدت سے میں
ایک عشوہ ساز و ہرزہ کار محبوبہ کے پاس
اس کے تخت خواب کے نیچے مگر
آج میں نے دیکھ پایا ہے لہو
تازہ و رخشاں لہو،
بوئے مے میں بوئے خوں الجھی ہوئی
وہ ابھی تک خواب گہ میں لوٹ کر آئی نہیں
اور میں کر بھی چکا ہوں اپنا عزم آخری
جی میں آئی ہے لگا دوں ایک بے باکانہ جست
اس دریچے میں سے جو
جھانکتا ہے ساتویں منزل سے کوئے بام کو
شام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میں
چاٹ کر دیوار کو نوک زباں سے ناتواں
صبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلند
آج تو آخر ہم آغوش زمیں ہو جائے گی
*********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top