The news is by your side.

Advertisement

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی ملاقات میں موجودگی قونصلررسائی نہیں تھی: ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد:‌ کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات قونصلر رسائی نہیں تھی، پاکستان چاہتا تھا کہ کلبھوشن کی ملاقات میڈیا دکھائے، پاکستان نے اسی تناظر میں بھارتی میڈیا کو بھی مدعو کیا تھا، مگر بھارت نے اپنے میڈیا کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں۔

ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر ملاقات کےدوران موجود رہے، مگر یہ قونصلررسائی نہیں تھی، ملاقات کے کمرے میں نصب شیشہ ساؤنڈ پروف تھا۔ انھوں نے گفتگو سنی نہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: بھارتی دہشت گردکلبھوشن کی اہلیہ اوروالدہ سےملاقات ختم

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر بطور مبصر موجود رہے، جے پی سنگھ نے فقط ملاقات دیکھی، سنی نہیں، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بات چیت کاموقع دیتے تو قونصلررسائی ہوتی۔

انھوں‌ نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں، ہم چاہتے تھے کہ کلبھوشن کی والدہ اوراہلیہ بھی میڈیا کے سوالات کا جواب دیں، مگر بھارتی قونصل خانے نے اس کی اجازت نہیں دی۔ میڈیا سے بات چیت نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے بہت سےسوالات رہ گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ملاقات ہمدردی کے جذبے کے تحت مثبت پیغام دینے کے لیے کروائی گئی، ہم امید رکھتے ہیں کہ بھارت سے بھی مثبت جواب دیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس پاکستان میں دہشت گردی کرتےپکڑاگیا، وہ 17 بار پاکستان آیا اورگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن حملوں میں ٹی ٹی پی کی مدد کا اعتراف کرچکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کلبھوشن کی والدہ اہلیہ نےملاقات کرانے پر پاکستان کاشکریہ اداکیا، ملاقات کےدوران بطور مبصر جے پی سنگھ موجود رہے، پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر فریحہ بگٹی موجود رہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں