The news is by your side.

Advertisement

وزیر دفاع نے افغانستان میں داعش کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے دیا

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 120 ارب ڈالرز سے زائد نقصان اٹھایا

بیجنگ: پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے کے لیے عدم تحفظ کا باعث ہے، پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کردی ہے۔

وہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرر ہے تھے، اجلاس میں انھوں نے پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ وفد میں ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ظفرملک، ڈی جی ظہور احمد، بیجنگ میں پاکستان کے ڈیفنس اتاشی بریگیڈیئر احمد بلال شامل تھے۔

وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے اجلاس کے شرکا کو پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے ہزاروں شہریوں اور فوجیوں کی جانی قربانی سے آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 120 ارب ڈالرز سے زائد نقصان اٹھایا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ نے جامع قومی لائحہ عمل اپنایا۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ نے جامع قومی لائحہ عمل اپنایا

خرم دستگیر وفاقی وزیر دفاع

وزیر دفاع نے کہا کہ خطے کو متعدد قسم کے مسائل کا سامنا ہے جن میں شدت پسندی، غربت، واٹرمینجمنٹ نہ ہونے جیسے مسائل، منشیات، پناہ گزینوں، انسانی اسمگلنگ اور سرحدوں کے مسائل شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو باہمی مسائل کا بھی سامنا ہے لیکن ان مسائل سے ہمارے اجتماعی کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ خیال رہے کہ ایک روز قبل بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف نے کی۔

پولینڈ کے وزیر دفاع خرم دستگیر کی دعوت پر پاکستان آئیں گے

دوسری طرف شنگھائی تعاون تنظیم کے سولہویں سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی روس روانہ ہوں گے۔ پاکستان کی شمولیت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے کل ارکان کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے، جن میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں