The news is by your side.

Advertisement

بغض نواز شریف میں آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیری گئیں: خرم دستگیر

اسلام آباد: وزیر دفاع خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ احسن اقبال پر حملے کو کیا نام دیں گے، یہ وہی ہے جو فیض آباد میں ہوتا تھا۔ بغض نواز شریف میں آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیری گئیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خرم دستگیر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے نا ممکن کو ممکن بنا دیا۔ پاکستان میں اوسطاً روزانہ 6 دہشت گردی کے حملے ہوتے تھے، مزاروں کو قتل گاہ بنا دیا گیا تھا، معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے فیصلوں کی وجہ سے آج پاکستان پر امن ہے۔ ’کراچی میں وکلا کو زندہ جلایا گیا، ہر روز ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی۔ آج کراچی میں روشنیاں لوٹ رہی ہیں، کاروبارعروج پر ہے‘۔

خرم دستگیر نے کہا کہ ہم نے 13 سال میں اعلیٰ گروتھ ریٹ دی ہے، ملک کو ترقی دی۔ ’ہم نے تھری جی اور فور جی کی کامیابی نیلامی کی۔ ن لیگ نے پاکستان کی معیشت کو ترقی دی اور دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مل کر پاکستان کو 2013 سے 2018 تک روشن ہوتے دیکھا۔ چینی صدر کا دورہ پاکستان اور پاک چین اقتصادی راہداری جیسے معاہدے روشنی ہیں، ’نواز شریف نے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کر کے حوالے کیا‘۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ منتخب حکومت کو سیاسی جتھوں کے ذریعے ہٹانے کا کیا مقصد تھا۔ ’2014 کے دھرنوں، پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی پر حملے کا کیا مقصد تھا۔ واٹس ایپ کالوں، مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں میں حساس نمائندوں کا کیا مقصد تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کا کامیاب انعقاد ہوا، لوگوں نے تعریف کی۔ جو امن ہم نے شہادت کے بعد حاصل کیا وہ بہت قیمتی ہے۔ ’احسن اقبال پر حملے کو کیا نام دیں گے؟ یہ وہی ہے جو فیض آباد میں ہوتا تھا۔ ایسے لوگوں کی مدد کیوں کی گئی جو بعد میں عذاب بن کر مسلط ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ بغض نواز شریف میں آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ حکومت نے عدالت کے ہر فیصلے کے ہر حرف کو تسلیم کیا ہے۔ ’تنقید کا حق نہ چھینیں، آپ تنقید کریں تو ٹھیک ہمیں نہ روکیں‘۔

خرم دستگیر نے مزید کہا کہ نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجانے والوں کو آرٹیکل 19 یاد آگیا۔ 2016 کی رپورٹ میں منی لانڈرنگ کا نام تک نہیں تھا۔ ’ورلڈ بینک نے کل وضاحت بھی دی کہ نواز شریف کا نام نہیں تھا۔ ایسے مضحکہ خیز الزامات پر ہمارے بدترین مخالفین بھی ہنس رہے ہیں‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں