جمعرات, جولائی 16, 2026
اشتہار

ایرانی تیل و گیس کی عالمی مارکیٹ میں انٹری، پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل و گیس کی عالمی مارکیٹ میں ممکنہ واپسی پاکستان کے لیے معاشی ریلیف کا سبب بن سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی پر کہا کہ اگر گزشتہ دو سے تین ہفتوں کا جائزہ لیا جائے تو عوام کو پٹرول اور ڈیزل پر پہلے 22 روپے اور پھر مزید 5 اور 4 روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایک وقت میں پٹرول کی قیمتیں 450 روپے تک جا پہنچی تھیں، اس لیے قیمتوں کو پرانی اور کم سطح پر آنے میں وقت لگے گا، کیونکہ جب سپلائی کا راستہ بند یا کوئی سائیڈ متاثر ہوتی ہے تو اسے دوبارہ بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم، وزیرِ خزانہ اور وزیرِ پٹرولیم کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آئیں، یہاں بھی عوام کو فوری ریلیف دیا جائے۔

خرم شہزاد نے وضاحت کی کہ پٹرول کی اپنی الگ قیمتیں چلتی ہیں، یہ صرف کروڈ آئل (خام تیل) پر انحصار نہیں کرتا، مثال کے طور پر جب کروڈ آئل 80 سے 90 ڈالر پر تھا، تو عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت 115 ڈالر اور ڈیزل کی قیمت 150 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد پاکستان میں بھی قیمتیں بڑھانا پڑیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کے ساتھ ساتھ سپلائی کو بھی دیکھا جاتا ہے، پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فیصد درآمدات سے پورا کرتا ہے اور ہمارے قریب ‘ابنائے ہرمز’ ہی وہ اہم راستہ ہے جہاں سے تیل منگوایا جاتا ہے۔

وزیرِ خزانہ کے مشیر کا کہنا تھا کہ ایران دنیا کے بڑے تیل و گیس ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی عالمی منڈی میں مؤثر واپسی سے خام تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے اور عالمی معیشت سمیت پاکستان پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ پیش رفت خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے سے درآمدی بل کم ہوگا، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی آئے گی اور مہنگائی کو قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی عالمی مارکیٹ میں مکمل واپسی کا انحصار بین الاقوامی پابندیوں، سفارتی پیش رفت اور خطے کی مجموعی صورتحال پر ہوگا، تاہم یہ پیش رفت عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں