The news is by your side.

Advertisement

آپ کو بنا بنایا پاکستان ملاہے ، عوام کی خوشحالی کاکریڈٹ پی پی کوجاتاہے، خورشیدشاہ

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشیدشاہ نے کہا اپوزیشن کاحق ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں اس کی مخالفت کرے، آپ کو بنا بنایا پاکستان  ملاہے ، عوام میں خوشحالی نظر آرہی ہے تواس کا کریڈٹ پی پی کو جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشیدشاہ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پارلیمنٹ مضبوط ہوتوجمہوریت بھی مضبوط ہوتی ہے، پارلیمنٹ ہوتی ہےتوبجٹ بھی آتاہے، حکومت جیسابھی بجٹ پیش کرتی ہےاپوزیشن تسلیم نہیں کرتی۔

خورشیدشاہ کا کہنا تھا اپوزیشن کاحق ہے جو ملک کےمفاد میں نہیں اس کی مخالفت کرے، کچھ باتیں اپنےلئےکی جاتی ہیں کچھ ملک کےلئےہوتی ہیں، گالم گلوچ سے سیاست نہیں کی جاتی، ہماری کوشش ہوگی اسمبلی کاماحول ٹھیک رکھے۔

حکومت جیسابھی بجٹ پیش کرتی ہےاپوزیشن تسلیم نہیں کرتی

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا اس ملک کاسب سے بڑا مسئلہ آبادی ہے ، آبادی تعلیم،صحت اورماحول پراثرکرتی ہے ، آج مہنگائی نے جوحالت کی ہے وہ کسی کی برداشت میں نہیں، حکومت نے جو کمٹمنٹ کی تھی ایک فیصد بھی پوری نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا محترمہ کی شہادت کے بعد صوبوں میں آگ لگی تھی، پیپلزپارٹی کی حکومت آئی، بلند و بانگ دعوے نہیں کیے، اس وقت کہاجاتا تھا دہشت گرد اسلام آباد کے قریب ہیں، سوات میں پاکستان کا جھنڈا اتارا جا چکاتھا، 2010 میں سیلاب نےتباہی مچائی، ہم نے اس کے باوجودگالم گلوچ اور چیخ وپکار نہیں کی۔

خورشیدشاہ نے کہا ہم نےیہ کبھی نہیں کہاکہ ماضی میں کیاکیاگیا، 2008 میں تیل کی قیمت120 ڈالر فی بیرل تھی، اس وقت ڈالر 82 روپے کا تھا، ہم نے ایوان اور جمہوریت پر اعتماد رکھا، پارلیمنٹ نے ہمیں راستہ اورہمت دی۔

صوبائیت کو چھیڑنے کی کوشش کی تو فیڈریشن کے لئے خطرہ ہوگا

پی پی رہنما کا کہنا تھا ہم نےاپنے کسان کومضبوط کیا، زراعت پرسبسڈی دی اورگروتھ13فیصدتھی، آج زراعت کی گروتھ1.4 فیصدہے ، زراعت کی گروتھ تھی تو ایکسپورٹ 25بلین ڈالر پر لے گئے۔

انھوں نے کہا ہماری حکومت نےاین ایف سی ایوارڈکااجراکیا، صوبےپاکستان کی وفاقیت کوبچانے میں کرداراداکرتےہیں، صوبائیت کو چھیڑنے کی کوشش کی تو فیڈریشن کے لئے خطرہ ہوگا، آپ کو بنا بنایا پاکستان ملاہے ، عوام میں خوشحالی نظرآرہی ہےتواس کاکریڈٹ پی پی کوجاتاہے۔

خورشیدشاہ کا کہنا تھا آئین کوڈکٹیٹرنےتباہ کیاتھاہم نےآئین کوبحال کیا، اکنامک ایکٹویٹی بڑھاناچاہتےہیں تو100،200ارب دیناہوں گے، ہم کسان کی طرف خوشحالی لےگئے،غریب خوشحال تھے، زراعت کوبڑھاؤکسی سےقرضہ لینےکی ضرورت نہیں پڑے گی، آئی ایم ایف سےبچنےکیلئےایک ہی راستہ زراعت ہے۔

آئی ایم ایف سےبچنےکیلئےایک ہی راستہ زراعت ہے

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا ڈیم کوسیاست بنادیاہے،چیف جسٹس میدان میں آگئے، ڈیم فنڈمیں کتنا پیسہ جمع ہوا، چیف جسٹس سے کہا حکومت سے کہیں ڈیم کیلئےمنی بجٹ لائیں، ڈیم بنائے بالکل بنائیں ڈیم نہ بنا کر مجرمانہ غفلت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا آپ کوتوبنابنایاپاکستان ملا، کوئی دہشت گردی نہیں ہے، آپ نے چیخ پکار کرکے 10 ،11 ارب ڈالر قرضہ لے لیا، آپ تنخواہ بھی ٹیکنیکل طور پر نہیں بڑھاتے، تنخواہ بڑھائی دوسری طرف ٹیکس لگا کر واپس لے لی، ہم نے تنخواہوں میں125 فیصد اضافہ کیا۔

خورشیدشاہ نے کہا پورےملک میں اسکولز،کالجزنہیں ہیں، بجٹ میں ہیلتھ کیلئے رقم کم کریں ایجوکیشن پربڑھائیں توبات سمجھ آئے، 3 روپےبجلی کی قیمت بڑھائی گئی اور کہا جاتا ہے مزیدبڑھائیں گے۔

بجٹ میں ہیلتھ کیلئے رقم کم کریں ایجوکیشن پربڑھائیں توبات سمجھ آئے

پی پی رہنما کا کہنا تھا موجودہ حکومت نےادویات کی قیمتوں میں بھی اضافی کیا، آپ نےوزیرکونکالاضرورلیکن ذمہ داروزیرہی ہوتاہے ، آپ نےوزیرکواس لیےنکالاکیونکہ انہیں پتہ تھایہاں کرپشن ہوئی، میں سوچ سمجھ کرباتیں کرناچاہیے۔

انھوں نے مزید کہا ہماری جمہوریت کامسئلہ ہےکل ہمارےساتھ بھی ہوگا، 52 سال ہوگئےآج بھی پی پی لبادےمیں بول رہاہوں، سب کوپتہ ہے کون کیسےآیاہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں