The news is by your side.

Advertisement

انتخابات پر سوال اٹھے تو تباہی آجائے گی، خورشید شاہ

سکھر: پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اس بار انتخابات فوج کی نگرانی میں ہو رہے ہیں، اگر اب بھی انتخابات پر سوال اٹھے تو تباہی آجائے گی۔

ان خیالات کا اظہار وہ سکھر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کر رہے تھے، انھوں نے کہا اسٹیبلشمنٹ خطرناک کھیل کھیل رہی ہے، اسٹیبلشمنٹ کو سمجھنا چاہیے جو کچھ ہو رہا ہے وہ نہیں ہونا چاہیے۔

سابق اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہمیں حکومت نہیں ملک میں جمہوریت چاہیے، ہم سےسوال کیا جا رہا ہے کہ ہم نے کیا ترقیاتی کام کیے؟ ضیاءالحق اور مشرف کے ساتھ رہنے والوں نے کیا کیا، یہ بھی پوچھیں۔

ملک میں سیاست اور کرپشن کے حوالے سے جاری عدالتی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا کام ہے عدالت میں لوگوں کو انصاف دیں، پاکستان کو اس وقت بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔

خورشید شاہ نے پی ٹی آئی چیئرمین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کرپٹ لوگوں کو پارٹی میں نہ لینے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اب ساٹھ فی صد ٹکٹ دوسری پارٹی والوں کو دیے، ان کے یو ٹرنز سے ہمارا سر گھوم گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے مزارات پر دعا مانگنے والوں پر تنقید کرنے والوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مزار پر دعا مانگنا غلط نہیں ہے، کہا ملک کے حوالے سے میرے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں، ’یہ توڑو وہ توڑو‘ کے کھیل سے ملک ہی کو نقصان ہوگا۔

خورشید شاہ 3 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک


خورشید شاہ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں، جیسی جمہوریت یہاں ہے وہ ملک کو نہیں چلا سکتی، ملک کی سیاست میں اقدار ختم ہو چکی ہیں، ایم این اے، ایم پی اے شپ اہمیت نہیں رکھتی۔

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ ادارے ملک کے لیے ہوتے ہیں ذاتیات کے لیے نہیں، پیپلز پارٹی نے کبھی اقتدار کے لیے الیکشن نہیں لڑا، ہمیشہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لیے جنگ لڑی لیکن ہم دوسروں کی طرح ترقیاتی کاموں پر ڈھول نہیں بجاتے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں