آرمی چیف کومعیشت پر بولنے کاحق ہے، کمزور معیشت فوج کو کمزور کردے گی، خورشید شاہ
The news is by your side.

Advertisement

آرمی چیف کومعیشت پر بولنے کاحق ہے، کمزور معیشت فوج کو کمزور کردے گی، خورشید شاہ

سکھر : قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کومعیشت پر بولنے کاحق ہے، حکومت آرمی چیف کو معیشت پر بریفنگ دے، کمزور معیشت فوج کو کمزور کردے گی، اداروں کا ٹکراؤ خطرناک ہے،تصادم سے ملک کمزور ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر خور شید احمد شاہ نے یو سی پٹنی کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست عباد ت کانام ہے، میں ہر ہفتے سکھرآتا ہوں، یہاں ترقیاتی کام ہورہے ہیں،  ہم عوام میں بیٹھتے ہیں اورعوام ہی کی زبان میں بات کرتےہیں ، آغاسراج بھی میری طرح ہر ہفتے اپنے علاقے میں جاتےہیں،لوگ سراج درانی کے پاس لوگ نوکریوں کے لئے آتےہیں ، لیکن سراج درانی نےکہہ دیا کہ وہ ووٹوں کالالچ نہیں رکھتے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ بھٹوصاحب نے ہمیں عوام کی خدمت سکھائی ہے، جس سیاست کی بنیاد بھٹو صاحب نے ڈالی اس سے بداخلاقی قبول نہیں، جمہوریت،پارلیمنٹ چلتی رہی توپاکستان 20سال میں خوشحال ہوگا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوگئی ،بغیرسیاق وسباق سب دیکھ رہےہیں، گالم گلوچ ختم کرناچاہئےصرف سیاستدان کانہیں ہم سب کانقصان ہے، 95 فیصدملازمتیں نجی ادارے دیتےہیں، ملک میں نجی ادارےتعمیرہی نہیں ہوئے، گالم گلوچ اورالزام تراشی کی سیاست کی مذمت کرناچاہئے، سوشل میڈیا استعمال کرنے والے آگے آکرمنفی سیاست ختم کریں۔


مزید پڑھیں :ایک شخص کے لیےآئین میں تبدیلی آئین کےساتھ مذاق ہے‘ خورشیدشاہ


قائد حزب اختلاف  کا کہنا تھا کہ عام آدمی کوبھی پاکستان کےلیےبات کرنےکاحق ہے، آرمی چیف کوملکی معیشت پربات کرنےکاحق ہے، جواب دینا چاہیے، بتانا چاہیے آرمی چیف کو بریفنگ کے لیے تیارہیں، اللہ رحم کرےمیں بہت کچھ دیکھ رہاہوں، پیپلزپارٹی کی کوشش ہے ٹکراؤ سے گریز کریں۔

انھوں نے کہا کہ ختم نبوت کامعاملہ 73کےآئین میں ڈال کرختم کردیاگیا، ترمیم لاکرختم نبوت سےمتعلق معاملہ ختم کردیاگیا، قادیانی اقلیت میں ہیں،آئین کےتحت اقلیت کی حفاظت کے پابند ہیں، آج ہم اپنی غلطیوں سےکیوں الجھنیں پیداکررہےہیں، ختم نبوت سےمتعلق ہربات کوسوچ سمجھ کرکہنا چاہیے،خورشیدشاہ

خورشیدشاہ کا کہنا تھا کہ اگرکوئی بات سمجھ نہیں آتی تو اس سےمتعلق کچھ نہیں کہناچاہیے، متعدد بار کہہ چکا ہوں اداروں کا ٹکراؤ خطرناک ہے، ٹکراؤ سے ادارے کمزور اور پھر ملک کمزور ہوگا، ہمیں آنکھیں کھولنی چاہئیں کہ کس طرف جارہےہیں، اگر یہ تسلسل جاری رہا تو اللہ ملک کو محفوظ رکھے۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا طے شدہ معاملہ الجھا دیا گیا ہے ، ہر قدم پھونک پھونک کر چلنا ہوگا، معیشت بہترہوگی تو ایل اوسی پر بہتر کارکردگی دکھاسکتےہیں، سیاستدانوں سےاپیل ہےلفظ تول کربولیں،بولنانہیں آتاتوچپ رہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں