The news is by your side.

Advertisement

قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے، کسی اور کا نہیں، خورشید شاہ

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں قائد حز ب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے جسے کوئی رد نہیں کرسکتا۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، خورشید شاہ ایوان میں خطاب کے دوران وزیر اعظم کے ہمنوا نظر آئے، انہوں نے کون سا ادارہ کیا فیصلے کرے؟ اس پر عدلیہ اور مقننہ کی مثال بھی دی۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ایگزیکٹو کا کام عدلیہ کرے عدلیہ کو بھی ایگزیکٹو کا کام کرنے کا حق نہیں، ہمیں حق ہے کہ ہم پاکستان کی بہتری کیلئے قانون سازی کریں۔

ایک موقع پر انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی اور نے نہیں بلکہ ہم نے خود پارلیمنٹ کا تقدس پامال کیا اور اسے کمزورکیا، بہت دیر ہوگئی یہ بحث پہلے ہونی چاہیے تھی۔

انیسویں اور20ویں ترمیم پارلیمنٹ نے ہی کی تھی، اس وقت خیال رکھا جاتا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے تو20ویں ترمیم کی نوبت نہ آتی، پاناما کے معاملے کی بھی پارلیمنٹ نےحل کی کوشش کی، پارلیمنٹ کا کردار پارلیمنٹ کو ہی ادا کرنا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہرادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو پاکستان اورعوام کے لئےبہتر ہے، جس ملک کے ادارے کمزور ہونگے تو وہ ملک خود کمزورہوجاتا ہے،

علاوہ ازیں قومی اسمبلی اجلاس کے بعد اسپیکر چیمبرمیں وزیر اعظم اور خورشید شاہ کے درمیان ملاقات ہوئی، ملاقات میں کیا طے ہوا؟ یہ ابھی واضح طور پر نہیں بتایا گیا البتہ خورشید شاہ ایوان میں اپنی کہی ہوئی بات سے ہٹتے نظر آئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور خورشید شاہ میں نگراں وزیر اعظم کے نام پر بھی مشاورت ہوئی ہے تاہم خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن سےنگران وزیراعظم کیلئےمشاورت کروں گا۔

ذرائع کے مطابق خورشید شاہ نے عدلیہ مخالف کسی قانون سازی کا حصہ بننے سے صاف انکارکرتے ہوئے کہا کہ کسی فرد واحد کیلئے قانون سازی کا حصہ نہیں بنیں گے، بہت وقت گزرچکا ہے ایک فرد کے بچاؤ کیلئے کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں